BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 June, 2008, 15:14 GMT 20:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دفاعی بجٹ کا خاکہ اسمبلی میں‘

یوسف رضا گیلانی
’دفاعی بجٹ کا خاکہ قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش ہوگا‘
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی دفاعی بجٹ میں اس برس اضافہ نہ کرنے اور پہلی مرتبہ اس کی تفصیل سے قومی اسمبلی کو آگاہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں دفاعی بجٹ کے بارے میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک امن پسند ملک ہونے کے ناطے پاکستان کسی کے ساتھ اسلحہ کے دوڑ میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتا لہذٰا اس سال دفاعی بجٹ میں پچھلے برس کی نسبت کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ افراط زر میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے مطابق دفاعی بجٹ کو نہ بڑھانا دراصل اس میں کمی کے مترادف ہے۔ وزیراعظم نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پڑوسی ملک بھی اسلحے کی دوڑ میں شامل نہ ہونے کے ہمارے اس عمل کا مثبت جواب دے گا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس سے پہلے قومی بجٹ کے ساتھ دفاعی بجٹ کی تفصیل بحث کے لیے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کی جاتی تھی لیکن اب وزارت دفاع اور فوجی سربراہ سے مشاورت کے بعد تجویز کردہ دفاعی بجٹ کا ایک خاکہ قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

وزیراعظم کے اس اعلان پر قومی اسمبلی میں حزب اختلاف اور اقتدار کے متعدد ارکان نے انہیں مبارکباد دی۔

وزیراعظم کے اس اعلان سے پہلے داخلہ امور پر ان کے مشیر رحمٰن ملک نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران تحقیقاتی اداروں نے ساڑھے نو سو کلو دھماکہ خیز مواد اور نو خودکش بمبار اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح سے گرفتار کیے ہیں جن میں سے بعض ایک گھنٹے بعد خودکش کارروائی کرنے والے تھے۔

 دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ سے ان کی حکومت نے بہت سے سبق سیکھے ہیں جن میں اول یہ ہے کہ صرف فوجی طاقت کے استعمال سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے بلکہ یہ جنگ جیتنے کے لیے عوام کے دلوں اور ذہنوں کو جیتنا ضروری ہے اور اس کے لیے مسلسل مہم چلانا انتہائی اہم ہے۔
رحمٰن ملک

مشیر داخلہ نے ایک رکن کے سوال کے تحریری جواب میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لیے موجودہ حکومت کی پالیسی پر ایک طویل پالیسی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سخت اور انتہا پسندی کے لیے نرم پالیسیاں اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ غربت، تعلیم کی کمی اور افغان جہاد ملک میں انتہا پسندی کی بنیادی وجہ ہے۔ رحمٰن ملک نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برس کے دوران دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ سے ان کی حکومت نے بہت سے سبق سیکھے ہیں۔ جن میں اول یہ ہے کہ صرف فوجی طاقت کے استعمال سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے بلکہ یہ جنگ جیتنے کے لیے عوام کے دلوں اور ذہنوں کو جیتنا ضروری ہے اور اس کے لیے مسلسل مہم چلانا انتہائی اہم ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم خودکش حملوں کی بجائے زندگی کی جانب لوٹنے والی پالیسیاں بنا رہے ہیں اور ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زندہ رہ کر اسلام کی بہتر خدمت کی جا سکتی ہے۔

وزیر خزانہ نوید قمر نے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ صدر پرویز مشرف کے دور میں (1999 سے 2007) کے دوران ساٹھ ارب روپے کے قرضے معاف کیے گئے۔ ان میں قریباً تین ہزار لوگ ایسے ہیں جن کے بنکوں سے لیے گئے قرضوں کی حد پانچ لاکھ روپے سے زائد تھی۔

اسی نوعیت کے ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسی کوئی تجویز زیرِغور نہیں ہے جس کے ذریعے غریب اور چھوٹے کاشتکاروں کے زرعی قرضے معاف کیے جائیں۔ قبائلی علاقوں میں امریکی امداد سے چلنے والے ترقیاتی پروگرامز کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ فاٹا میں ترقیاتی کاموں کے لئے امریکا نے سات کروڑ بیس لاکھ ڈالر صرف کیے ہیں۔

اسی بارے میں
وفاقی بجٹ سات جون کو
26 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد