BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 May, 2008, 16:42 GMT 21:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ

سٹیٹ بنک آف پاکستان
مرکزی بینک کے مطابق اس اقدام سے افراط زر کو قابو کرنے میں مدد ملے گی
پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراطِ زر پر قابو پانے کے لئے ملک کے مرکزی بینک نے جمعرات کو بنیادی شرح سود میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کا اضافہ کردیا جس کے بعد اب شرح سود بارہ فیصد ہوگئی ہے جس کا اطلاق جمعہ سے ہوگا۔

مرکزی بینک کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف افراط زر کو قابو کرنے میں مدد ملے گی بلکہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کو بھی سہارا ملے گا۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے جمعرات کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر کی شرح رواں مالی سال میں اوسطاً ساڑھے دس فیصد بڑھ چکی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ شرح رواں مالی سال کے آخر یعنی تیس جون تک گیارہ فیصد تک ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عام افراطِ زر کی شرح میں گزشتہ سال دسمبر سے اس سال اپریل تک سترہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں سترہ فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس کا رجحان دنیا بھر میں دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے بقول حکومت اسٹیٹ بینک سے اب تک ساڑھے نو سو ارب روپے کے قرضے لے چکی ہے جو ہدف سے بہت زیادہ ہے اور اس کا اثر زر کے پھیلاؤ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جس سے افراط زر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مرکزی بینک سے قرضہ لینے کے رجحان کو کم کرے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ پاکستانی روپے کی قدر میں اب تک تقریباً ساڑھے چودہ فیصد کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال جولائی سے مارچ تک روپے کی قدر میں تین اعشاریہ آٹھ فیصد کمی ہوئی جبکہ مارچ سے اب تک روپے قدر ساڑھے دس فیصد گِر چکی ہے۔

مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام کھاتہ داوروں کو ان کی جمع شدہ رقم پر کم از کم پانچ فیصد شرح سے منافع کی ادائیگی کریں جبکہ ایسے اقدامات کیے جائیں گے جس سے بچت کے ذریعے بینکوں کے ڈپازٹس بڑھانے میں کھاتہ داروں کی حوصلہ افزائی ہو۔

معیشت کے مختلف شعبوں کی صورتحال بتاتے ہوئے ڈاکٹر شمشاد اختر نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے جبکہ بجٹ خسارہ دس فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے بیشتر شعبوں کی کارکردگی اہداف سے کم ہے۔

دوسری جانب آج بھی اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے اور KSE-100 انڈیکس تین سو سینتالیس پوائنٹ کی کمی کے بعد تیرہ ہزار چھ سو ستائیس پوائنٹ پر بند ہوا۔

اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بازار میں اتارچڑھاؤ کی بڑی وجہ نئے سال کے بجٹ میں بعض ٹیکسوں کے حوالے سے آنے والی خبریں اور ملک میں سیاسی بےچینی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد