قیمتوں میں اضافہ متوقع: سٹیٹ بنک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے بدھ کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں اضافے کی شرح پانچ فیصد کے مقررہ ہدف سے بڑھ کر سات اعشاریہ دو فیصد سے آٹھ عشاریہ دو فیصد کے درمیان ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مجموعی زرعی پیداوار کا ہدف حاصل نہ ہو سکا تو مہنگائی کا دباؤ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ملک میں پانی کی کمی زرعی پیداوار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زرعی پیداوار کا زیادہ انحصار گندم کی فصل پر ہے۔ تاہم رپورٹ میں مجموعی قومی پیداواری ہدف کو عبور کرنے کی پیشن گوئی کی گئی ہےاور امید ظاہر کی گئی ہے کہ معیشت میں سات اعشاریہ ایک فیصد تک نمو ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس سال معاشی پیداوار کا ہدف چھ اعشاریہ پانچ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بنک نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوری 2005 میں ٹیکسٹائل کوٹے کے خاتمے کے بعد صنعتی ترقی کا ہدف بھی غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ بینک نے تجارتی خسارے کے بڑھنےکا اشارہ بھی دیا ہے جس کی وجہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت بتائی جا رہی ہے۔ بینک کی اس رپورٹ پر ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافے سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ ملک کی برآمدات کے حوالے سے بینک کا کہنا ہے کہ ان میں معمولی اضافے کاامکان ہے جبکہ درآمدات میں اضافہ یقینی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||