بجٹ کےموقع پر یوم سیاہ کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان نے دس جون کو پیش ہونے والے متوقع بجٹ کے موقع پر ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اساتذہ محاذ نے اسلام آباد میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے ایک بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ہوا ہے اور اساتذہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ بھوک ہڑتالی کیمپ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک نئے بجٹ میں ان کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ نہیں کیا جاتا۔ متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اُن کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔ چیئرمین متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان حاجی عبدالغفار کُریزئی نے کہا کہ ’پاکستان کے آٹھ لاکھ اساتذہ ملک کی عوام کی طرح مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکومت نے اس طبقے کو ریلیف دینے کے سلسلے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس وقت صوبہ سرحد میں جو نئے اساتذہ بھرتی ہو رہے ہیں انہیں صرف چار ہزار دو سو روپے تنخواہ دی جا رہی ہے جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ مزدور کی کس سے کم اُجرت چھ ہزار روپے ہوگی۔‘ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کسی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر اس طبقے کو مفلوج کردیا جائے تو پوری قوم فالج زدہ ہوجاتی ہے۔ حاجی عبدالغفار نے کہا کہ ’حکومت ہوش کے ناخن لے اور اساتذہ کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اس طبقے میں پائی جانے والی بےچینی کو ختم کیا جائے۔‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں ایک جیسا نظام تعلیم رائج کیا جائے تاکہ پاکستانی معاشرے کو ایک جیسی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آسکیں اور کم آمدنی والے افراد کے بچوں میں جو کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اُن میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ میں شامل اساتدہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو روز سے اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن نہ تو وزیر تعلیم اور نہ ہی اسلام آباد کی انتظامیہ کے کسی ذمہ دار افسر نے اُن سے رابطہ کیا ہے اور پوچھ سکیں کہ وہ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں اساتذہ کے یکساں پےسکیلز، اضافی تعلیم پر اضافی ترقی، کنٹریکٹ پالیسی اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے سے پہلے اساتذہ کو خصوصی الاؤنسز بھی ملتے تھے جو اب بند کردیےگئے ہیں اور سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف نے سنہ دو ہزار چھ میں اساتذہ کو یہ خصوصی الاؤنسز دینے کا اعلان کیا تھا جس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ ادھر آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن نے آئندہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے بدھ کے روز سے ملک بھر میں چار روزہ ہڑتال شروع کر دی ہے اور اس تنظیم کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر اُن کے مطالبات تسلیم نہ کیےگئے تو یہ ہڑتال طول بھی پکڑ سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کے مختلف محکموں میں بیس لاکھ سے زائد کلرک کام کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان جج: بحالی بجٹ اجلاس سے قبل17 May, 2008 | پاکستان بجٹ سر پر مگر وزیرِ خزانہ کوئی نہیں14 May, 2008 | پاکستان اسحٰق ڈار پر قاف لیگ کی تنقید07 May, 2008 | پاکستان تیل پھر مہنگا کرنا پڑے گا:وزیر خزانہ26 April, 2008 | پاکستان اربوں روپے کی مالی بےقاعدگیاں11 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||