BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجٹ کےموقع پر یوم سیاہ کا اعلان

متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان
اساتذہ کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتالی کیمپ ان کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ تک جاری رہے گا۔
متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان نے دس جون کو پیش ہونے والے متوقع بجٹ کے موقع پر ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

اساتذہ محاذ نے اسلام آباد میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے ایک بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ہوا ہے اور اساتذہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ بھوک ہڑتالی کیمپ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک نئے بجٹ میں ان کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ نہیں کیا جاتا۔

متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اُن کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ مظاہروں کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔

چیئرمین متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان حاجی عبدالغفار کُریزئی نے کہا کہ ’پاکستان کے آٹھ لاکھ اساتذہ ملک کی عوام کی طرح مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکومت نے اس طبقے کو ریلیف دینے کے سلسلے میں کوئی عملی اقدامات نہیں کیے۔‘

تنخواہ چار ہزار
 اس وقت صوبہ سرحد میں جو نئے اساتذہ بھرتی ہو رہے ہیں انہیں صرف چار ہزار دو سو روپے تنخواہ دی جا رہی ہے جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ مزدور کی کس سے کم اُجرت چھ ہزار روپے ہوگی
چیئرمین متحدہ محاذ اساتذہ

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت صوبہ سرحد میں جو نئے اساتذہ بھرتی ہو رہے ہیں انہیں صرف چار ہزار دو سو روپے تنخواہ دی جا رہی ہے جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ مزدور کی کس سے کم اُجرت چھ ہزار روپے ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کسی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر اس طبقے کو مفلوج کردیا جائے تو پوری قوم فالج زدہ ہوجاتی ہے۔

حاجی عبدالغفار نے کہا کہ ’حکومت ہوش کے ناخن لے اور اساتذہ کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اس طبقے میں پائی جانے والی بےچینی کو ختم کیا جائے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں ایک جیسا نظام تعلیم رائج کیا جائے تاکہ پاکستانی معاشرے کو ایک جیسی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آسکیں اور کم آمدنی والے افراد کے بچوں میں جو کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اُن میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے۔

بھوک ہڑتالی کیمپ میں شامل اساتدہ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ دو روز سے اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن نہ تو وزیر تعلیم اور نہ ہی اسلام آباد کی انتظامیہ کے کسی ذمہ دار افسر نے اُن سے رابطہ کیا ہے اور پوچھ سکیں کہ وہ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔

 گزشتہ دو روز سے اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن نہ تو وزیر تعلیم اور نہ ہی اسلام آباد کی انتظامیہ کے کسی ذمہ دار افسر نے رابطہ کیا ہے کہ ہم یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں
اساتذہ

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں اساتذہ کے یکساں پےسکیلز، اضافی تعلیم پر اضافی ترقی، کنٹریکٹ پالیسی اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے سے پہلے اساتذہ کو خصوصی الاؤنسز بھی ملتے تھے جو اب بند کردیےگئے ہیں اور سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف نے سنہ دو ہزار چھ میں اساتذہ کو یہ خصوصی الاؤنسز دینے کا اعلان کیا تھا جس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

ادھر آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن نے آئندہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے بدھ کے روز سے ملک بھر میں چار روزہ ہڑتال شروع کر دی ہے اور اس تنظیم کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر اُن کے مطالبات تسلیم نہ کیےگئے تو یہ ہڑتال طول بھی پکڑ سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کے مختلف محکموں میں بیس لاکھ سے زائد کلرک کام کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد