BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 May, 2008, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسحٰق ڈار پر قاف لیگ کی تنقید

اسحٰق ڈار
اسحٰق ڈار نےالزام لگایا تھا کہ شوکت عزیز کے دور میں معیشت کی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا رہا ہے
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بدھ کے روز اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب سابق حکومت کے اقتصادی ماہرین کی ٹیم نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی عدم موجودگی میں ان پر ملکی مفاد کے خلاف بیانات جاری کرنے کے الزامات لگائے اور کمیٹی میں شامل پاکستان مسلم لیگ قاف کے ارکان ان الزامات کی تائید کرتے رہے۔

سینیٹ کمیٹی کا یہ خصوصی اجلاس وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے سابق حکومت پر بجٹ تیاری کے دوران اعدا و شمار میں ہیر پھیر کے الزامات کی جواب طلبی کے لئے بلایا گیا تھا لیکن سینیٹ اور اس کمیٹی میں حکومتی ارکان کی اقلیت کے باعث یہ موجودہ حکومت کا مذمتی اجلاس بن کر رہ گیا۔

سابق مشیر خزانہ اس وقت کے خزانہ امور کے سیکرٹری تنویر آغا، اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن، اور سابق حکومت کی ٹیم کے دیگر ارکان کے ہمراہ مکمل تیاری کے ساتھ کمیٹی کے اجلاس میں موجود تھے جبکہ اسحٰق ڈار کو شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔

ایسے میں سلمان شاہ نے جب یہ کہا کہ ’اسحٰق ڈار کے غیر ذمہ دارنہ بیانات دراصل ملک کے خلاف ہیں، تو جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے انہیں وزیر کی عدم موجودگی میں ان کے خلاف اس طرح کی بیان بازی سے روکنے کی کوشش کی۔ جواب میں مسلم لیگ قاف کے ارکان نے، جو دیگر کی طرح سینیٹ کی اس کمیٹی میں بھی اکثریت میں ہیں، سلمان شاہ کی نا صرف ہاں میں ہاں ملائی بلکہ بعض سینٹرز نے انہیں شاباش بھی دی۔

ملکی معیشت پر دباؤ
 اسحٰق ڈار کےغیر ذمہ دارانہ بیانات کے باعث ملکی معیشت اچانک دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے روپے کی قدر اور سٹاک مارکیٹ کی انڈیکس میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سلمان شاہ

اس موقع پر حکومت کے واحد حمایتی رکن اور قاف لیگ کے ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے کمیٹی چیئرمین احمد علی نے سلمان شاہ کو اپنا خطاب جاری رکھنے کا اجازت دے دی۔

اس یکطرفہ کارروائی کا جواز پیش کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر احمد علی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس حساس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے۔

اسحٰق ڈار کی جانب سے پچھلی حکومت پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ نے کہا کہ بجٹ کی تیاری اندازوں کی بنیاد پر ہوتی ہے اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں ان اندازوں کومتاثر کرتی ہیں۔ ایسے میں یہ الزام کہ حکومت جان بوجھ کر اعداد و شمار میں ہیر پھیر کرتی رہی، بے بنیاد ہے۔

سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ ’ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کے باعث ملکی معیشت اچانک دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے روپے کی قدر اور سٹاک مارکیٹ کی انڈیکس میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے سابق مشیر نے کہا کہ ’سیاسی نوعیت کے ان بیانات سے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے خوفزدہ ہو جائیں گے بلکہ غیر ملکی ریٹنگ ایجنسیز بھی پاکستان کی معاشی حیثیت کو کم کرسکتی ہیں۔ جس کا نقصان ملک کو ہو گا۔

واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اسی کمیٹی کے سابقہ اجلاس میں سابق حکومت پر الزام لگایا تھا کہ شوکت عزیز کے دور میں معیشت کی کارکردگی کوجھوٹے اعداد و شمار کے ذریعے بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا رہا ہے۔

وزیر خزانہ کی جانب سے جب خزانہ ڈویژن کے سیکرٹری فرخ قیوم نے وضاحتی بیان دینے کی کوشش کی تو چیئرمین کمیٹی نے انہیں اپنا بیان مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی جبکہ قاف لیگ کے سینیٹرز سیکرٹری خزانہ کے بیان میں بار بار مداخلت بھی کرتے رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد