قرآن پر فلم: سینیٹ کی مذمتی قرارداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے اتفاق رائے سے قرآن کے بارے میں فلم اور پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے قرار داد منظور کی ہے۔ قرار داد میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مداخلت کرے تاکہ آئندہ کوئی بھی کسی مذہب کے خلاف ایسی کارروائی نہ کرسکے اور متعلقہ مذاہب کے لوگوں کی دل آزاری کو روکا جاسکے۔ نو منتخب حکومت کے قیام کے بعد جمعہ کی شام گئے جب سینیٹ کا پہلا اجلاس شروع ہوا تو قائد حزب مخالف مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا نے ڈنمارک اور ہالینڈ میں قرآن کے خلاف فلم بنانے اور پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایوان سے قرار داد منظور کرنے کی تجویز پیش کی۔ قائد ایوان میاں رضا ربانی نے ان کی تجویز کی حمایت کی اور بعد میں اتفاق رائے سے ایوان میں قرار داد منظور کرلی گئی۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ایک موقع پر جب متحدہ قومی موومنٹ کے بابر غوری نے افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کے اغوا کا معاملہ اٹھایا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کے مغوی سفیر خیریت سے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنے سفیر کی بحفاظت واپسی کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور مغوی سفیر نے اپنے اہل خانہ اور دفتر خارجہ کے حکام سے فون پر بات بھی کی ہے۔ ان کے مطابق سفیر کو ادویات وغیرہ بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ سینیٹ کے اجلاس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) ، جمیعت علماء اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی اور بعض آزاد اراکین سینیٹ حکومتی بینچوں پر بیٹھے رہے لیکن جماعت اسلامی کے سینیٹرز بدستور اپوزیشن کی بینچوں پر ہی موجود رہے۔ تاہم پروفیسر خورشید احمد نے وضاحت کرتے ہوئے تاثر دیا کہ وہ اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ق) اور ان کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ نہیں بلکہ وہ ایک علحدہ حیثیت میں وہاں بیٹھے ہیں۔ سینیٹ کے اجلاس میں ایک موقع پر حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان نے نکتہ اعتراض پر کچھ بولنے کا اسرار کیا تو ان کے رہنما میاں رضا ربانی سمیت پارٹی کے بعض سینیٹرز ان کے پاس گئے اور انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔ اس دوران جب وہ پھر بھی اسرار کرنے لگے تو وزیر قانون فاروق نائک نے انہیں چپ رہنے کی درخواست کی تو بابر اعوان سیخ پا ہوگئے اور ان کے خلاف با آواز بلند بولنے لگے۔ لیکن اس دوران چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے ایوان کی کارروائی نماز کا وقفہ کرنے کے لیے معطل کردی۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا اور ججوں کی بحالی کے لیے کوئی قرار داد پیش نہیں ہوسکی۔ لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ججوں کی بحالی کی قرار داد اور عدلیہ میں اصلاحات کے بارے میں پیکیج پر اتفاق ہوگیا تو وہ ایوان بالا سینیٹ میں پیش ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کی رات گئے ججوں کی بحالی کے بارے میں وزیر قانون فاروق نائک کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے اجلاس میں قرار داد کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ وزیر قانون نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سفارشات کو حتمی شکل ددے دی گئی ہے اور اب یہ سفارشات آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف کو پیش کی جائیں گی اور ان کی منظوری کے بعد ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کی جائیں گی۔ | اسی بارے میں سینیٹ: کامل علی آغااپوزیشن لیڈر04 April, 2008 | پاکستان سینیٹ: قائدِ حزب اختلاف کے لیے دوڑ03 April, 2008 | پاکستان قیدی عورتوں اور بچوں کیلیے کمیٹی 27 February, 2008 | پاکستان انتخابی مہم: قائم مقام صدر پر پابندی23 January, 2008 | پاکستان امیر حسین، سومرو تقرریاں غیر آئینی22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||