اربوں روپے کی مالی بےقاعدگیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال برائے 2005-2006 کے لیے مختص وفاقی بجٹ میں اربوں روپے کے مالی بے قاعدگیوں اور رقم کے غلط استعمال کی نشاندہی کی ہے، جس میں سے پچیس ارب روپے سے زیادہ کی مالی بے ضابطگیاں صرف وزارت دفاع میں کی گئی ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی یہ رپورٹیں جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں جو متعلقہ محکموں کے ذمہ دار افسران سے پوچھ گچھ اور معاملات کے ازالے کے لیے ایوان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھجوا دی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ ان رپورٹوں میں زلزلے سے بحالی کے متعلق ادارے کے فنڈز کی آڈٹ رپورٹ بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بارہ سو پچپن غیر مجاز افراد کو ’ہاؤسنگ کیش گرانٹ‘ سکیم سے ساڑھے نو کروڑ روپے ادا کیے گئے جبکہ ایک ہی شناختی کارڈ پر متعدد افراد کو دوبارہ رقم جاری کی گئی۔ مجاز حکام کی منظوری کے بنا دو سو بیس عہدے پیدا کرکے بھرتیاں کی گئیں۔ آرمی انجنیئرنگ کو پانچ کروڑ روپے زلزلہ زدہ علاقوں میں تربیت اور ورکشاپ منعقد کرنے کے لیے دیے گئے جس میں سے پونے چار کروڑ روپے کا کوئی حساب کتاب نہیں فراہم کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق زلزلہ سے بحالی کے ادارے نے غیر قانونی طور پر گاڑیوں کی خریداری پر سوا تین کروڑ روپے سے زیادہ اخراجات کیے۔ جبکہ اس ادارے کے چیئرمین اور دیگر افسران نے موبائل فون کے مد میں مقررہ حد سے تین گنا زیادہ رقوم خرچ کیے۔ قواعد کے برعکس عملے کو ساڑھے باسٹھ لاکھ روپے اعزازیہ ادا کیا گیا۔ نجکاری کے بارے میں آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یعنی ’کے ای ایس سی، ساڑھے پندرہ ارب روپے میں نجی شعبے کے حوالے کی گئی لیکن اس سے کہیں زیادہ رقم حکومت نے اس ادارے کے خریداروں کو چاندی کی پلیٹ میں رکھ کر پیش کی۔ حکومت نے ’کے ای ایس سی‘ کے ذمے واجب ایک سو آٹھ ارب روپے کا قرضہ معاف کیا اور ادارے کے کھاتے میں جمع نقد رقم سمیت پونے انیس ارب روپے کا دیگر مدوں میں فائدہ دیا۔ وزارت خارجہ کے بارے میں آڈٹ رپورٹ میں بھی کروڑوں روپے کی بے قائدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس میں صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے غیر ملکی دوروں پر اٹھنے والے اخراجات کو قواعد کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کے بارے میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ میں ساڑھے پچیس ارب روپے سے زیادہ مالی بے قائدگیوں، غیر قانونی ادائیگیوں، وصول کردہ رقم سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے، ٹیکس اور دیگر سرکاری رقوم وصول نہ کرنے، ناقص مواد خریدنے سمیت فوجی افسران کے جان بوجھ کر اختیارات کے غلط استعمال کی سینکڑوں کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رسالپور میں سوئی گیس کے بلوں کی ادائیگی پر مقررہ حد سے ترانوے لاکھ روپے اضافی خرچ کرنے، منگلا میں ڈیفالٹ کرنے والے ٹھیکیداروں سے ساڑھے چوبیس
رحیم یار خان میں سیم اور تھور سے بچاؤ کے منصوبے میں پونے آٹھ کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹیوب ویل اور دیگر مشینوں کی مرمت اور سپیئر پارٹس کی خریداری کے لیے ہر سال لاکھوں روپے مختص کیے جاتے ہیں اور تمام رقم ہر سال جون میں خرچ کردی جاتی ہے جس کے اکثر بل وغیرہ بھی فراہم نہیں کیے جاتے۔ اس منصوبے کے لیے پانچ کروڑ ساڑھے اکتیس لاکھ روپے کراچی کور ہیڈ کوارٹر نے جاری کیے جس میں سے چار کروڑ پچانوے لاکھ واپس لے لیے جس کا کوئی حساب ہے اور نہ ہی اس کا آڈٹ کرنے دیا گیا۔ مالی سال برائے دو ہزار پانچ اور چھ کے لیے وزارت دفاع کے بجٹ کے بارے میں آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی ملٹری ہسپتال کے لیے بغیر ٹینڈر کے ادویات خریدی گئیں اور سپلائر کو پونے دو کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔ کیونکہ ادویات کی فراہمی پر ساڑھے سترہ فیصد رعایت دینے پر اتفاق ہوا لیکن وہ رقم سپلائر سے واپس نہیں لی گئی۔
فوجی افسران کی نجی آرگنائیزیشن میں تعیناتی پر بیس لاکھ روپے کے اخراجات کو بھی آڈیٹر جنرل نے خلاف قاعدہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی کے فیصل ائر بیس سے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے طیاروں میں تیل بھرانے کے مد میں ساڑھے تیرہ لاکھ روپے تاحال وصول نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملٹری لینڈ اینڈ کینٹونمنٹس میں لیز کی رقم اور کمپوزیشن فیس کی مد میں سوا بائیس کروڑ روپے کی وصولی نہیں کی گئی۔ |
اسی بارے میں ’فوج کے لئےآئین توڑنا ہی کافی ہے‘04 June, 2004 | پاکستان فوج کے 55 کاروباری ادارے26 April, 2005 | پاکستان لوگوں کی فوج پر شدید تنقید11 October, 2005 | پاکستان اسلام آباد: فوج کے لیئے مزید زمین14 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||