BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 21:49 GMT 02:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجٹ سر پر مگر وزیرِ خزانہ کوئی نہیں

اسحاق ڈار
’وزیرِ خزانہ کا مستعفی ہونا بجٹ اور معیشت دونوں کے لیے اچھا نہیں‘
پاکستان میں آج کل بجٹ سازی کا وقت ہے۔ لیکن ہوشربا مہنگائی، آٹے اور بجلی کے جاری بحرانوں کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وفاقی کابینہ سے علیحدگی سے ماہرین کو خدشہ ہے کہ بجٹ سازی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں مئی کے آخری ایام بجٹ کی تیاری کے اعتبار سے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ حکومت نئے مالی سال کے لیے اُس کی معاشی پالیسی اور سمت کا تعین کرتی ہے۔

خزانہ کا قلمدان بطور وزیر اور مشیر سنبھالنے والے ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ یہ وزیر ہی ہوتا ہے جو تمام تر رابطے رکھتا ہے وزارت، کابینہ اور پارلیمان کے درمیان۔ ’ایک ایسے وقت جب بجٹ کی حتمی شکل دینے میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہو ان کا مستعفی ہونا بجٹ اور معیشت دونوں کے لیے اچھا نہیں‘۔

ماہرین کے خیال میں وزارت خزانہ کسی نہ کسی طرح دیگر وزارتوں کی ضروریات اکٹھی کر کے بجٹ کی تیاری تو کر لے گی لیکن ایک منتخب حکومت جو اپنی انتخابی وعدوں کو عمل شکل دینا چاہتی ہے، معیشت کو اہم رخ دیتی ہے، اس کے اخراجات کی ترجیحات کیا ہوں گی اور عوام کے لیے وہ کیا رعایت دینا چاہتی ہے وہ اقدامات اس میں شاید شامل نہیں کیے جا سکیں گے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کہتے ہیں کہ بجٹ سازی کی اہم ذمہ داری میں قیادت کا کردار تو وزیر ہی سرانجام دے سکتا ہے۔ ’یہ خیال کہ آپ بغیر وزیر خزانہ بجٹ کو تمام تر عمل سے گزار سکتے ہیں یہ ایک غلط سوچ ہے‘۔

اگرچہ مستعفی ہونے والے وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج اپنے دفتر نہیں گئے تاہم پیپلز پارٹی کے بندرگاہوں اور جہازرانی کے وزیر نوید قمر کا اصرار ہے کہ بجٹ تو وزارت خزانہ بناتی ہے جبکہ وزراء کے استعفے منظور نہیں ہوئے لہذا وہ بدستور وزیر ہیں۔ نوید قمر کا کہنا ہے کہ بجٹ سازی میں کابینہ کی منظوری بھی بہت ضروری عمل ہے اور اس کے بعد ہی اسے قومی اسمبلی کے سامنے رکھا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کہہ چکی ہے کہ وہ مسلم لیگ کی چھوڑی ہوئی آٹھ وزارتیں تو ان کی واپسی تک خالی رکھے گی لیکن خزانے کی وزارت وہ خالی نہ رکھ سکے۔ تاہم ابھی تک نیا وزیر خزانہ تعینات نہیں کیا جاسکا ہے۔

پاکستان میں عموما وفاقی بجٹ کا اعلان جون کے پہلے عشرے میں کر دیا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ سیاسی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے اس میں بھی تاخیر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی، افراط زر اور بجلی کی کمی کے بحران کی وجہ سے اقتصادی ماہرین اس بجٹ کو ماضی کی دستاویزات سے کہیں زیادہ اہم قرار دے رہے ہیں۔

اچھا یا برا بجٹ تو شاید کسی طریقے سے تیار کر ہی لیا جائے گا لیکن سوال یہ ہوگا کہ آیا وہ مینڈیٹ جو حکمراں جماعتوں کو ملا تھا اس سالانہ اقتصادی منصوبہ بندی میں ظاہر ہو پائے گا یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد