BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 May, 2008, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وفاقی بجٹ سات جون کو

قومی اسمبلی(فائل فوٹو)
بجٹ کی منظوری کے بعد ہی آئینی پیکج پر پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے
صدر پرویز مشرف نے قومی اسمبلی کا اجلاس دو جون کو طلب کر لیا ہے تاہم وفاقی حکومت نے واضع کیا ہے کہ آئندہ برس کا مالی بجٹ سات جون کو پیش ہوگا۔

توقع ہے کہ دو جون کے اجلاس میں معزول ججوں کی بحالی اور آئین میں ترامیم کے لیے ایک پیکج پیش کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے دو جون شام پانچ بجے اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔

حکومت کا دعویٰ
 حکومت معشیت میں استحکام لائے گی۔ سابق حکومت نے ایک طرف تیل اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمت کی صورت میں مہنگائی امپورٹ کی تو دوسری طرف حکومت نے قرضہ لیا، موجودہ حکومت کم سے کم اس قرضے کو فوری ختم کرے گی
اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ تاہم خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کا تیار کردہ آئینی ترمیمی پیکج غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس مجوزہ پیکج پر ابھی مسلم لیگ ن اور دیگر اتحادی جماعتوں سے مشاورت ہونا باقی ہے۔ اسی وجہ سے اس پیکج کے بجٹ سے قبل منظور ہونے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔

ادھر نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری میں مصروف وفاقی وزیر سید نوید قمر نے کراچی میں صحافیوں کو بتایا کہ بجٹ سات جون کو اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔

نوید قمر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں جو امیر ہیں ان سے ٹیکس وصول کیا جائے گا تاکہ غریبوں پر بوجھ کم کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے آخر تک بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا نو فیصد ہو جائے گا۔

نوید قمر کا کہنا تھا کہ مالیاتی اداروں اور دیگر ذرائع سے تین ملین ڈالر حاصل کیے جائیں گے جو ملکی بینکوں کے قرضے کی ادائیگی اور خسارے میں بہتری کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملکی کرنسی کو استحکام ملے گا اور حکومت کو غیر معمولی اقدامات اٹھانا نہیں پڑیں گے جس سے یہاں کی معشیت یا لوگوں کو مشکل حالات سے گزرنا پڑے۔

’اعتماد میں لیں گے‘
 سٹاک مارکیٹ میں کیپیٹل گین ٹیکس کے نفاذ کی افواہوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس لگایا گیا تو اس سے قبل ڈائریکٹروں اور سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لیا جائے گا
نوید قمر
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت معشیت میں استحکام لائیگی۔ سابق حکومت نے ایک طرف تیل اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کی صورت میں مہنگائی امپورٹ کی اور دوسری طرف حکومت نے قرضہ لیا۔ موجودہ حکومت کم سے کم اس قرضے کو فوری ختم کرے گی۔

نوید قمر کا کہنا تھا کہ سٹاک مارکیٹ میں کیپیٹل گین ٹیکس کے نفاذ کی افواہوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس لگایا گیا تو اس سے قبل ڈائریکٹروں اور سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

ہفتے کے پہلے روز ہی کراچی سٹاک ایکسچینج کو مندی کا سامنا رہا، سارا دن مارکیٹ میں اتار چڑہاؤ کا رجحان تھا اور ایک وقت یہ مندی ساڑے پانچ سو پوائنٹس تک پہنچ گئی تھی۔

دن کے اختتام پر کے ایس ای ہنڈریڈ انڈکس کا اختتام چار سو انچاس پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بارہ ہزار پانچ سو چوراسی پوائنٹس پر ہوا۔

پیر کو دن کے اختتام تک چودہ کروڑ، اڑتیس لاکھ تئیس ہزار روپے کے سودے ہوئے۔
سب سے زیادہ متاثر بینکنگ سیکٹر ہو رہا ہے ، جس کے علاوہ سیمنٹ اور تیل کمپنیوں کے حِصص کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود اور کھاتے داروں کے کھاتوں پر منافع کے اضافے کے بعد سے کراچی سٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہے۔

بجٹ کی منظوری میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں جس کے بعد ہی آئینی پیکج پر کسی پیش رفت کی توقع کی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد