قومی اسمبلی میں مذہبی جذبات کا اظہار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کے منگل کے اجلاس سے ظاہر ہوا کہ جب معاملہ مذہب کا ہو تو دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی ایوان میں کمی کوئی زیادہ محسوس نہیں کی جاسکتی۔ جماعت اسلامی کے انتخابات کے بائیکاٹ اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے گنتی کے اراکین کی علالت کی وجہ سے غیرموجودگی سے ایوان میں مذہبی جماعتوں کے اراکین کی تعداد اکاد دکا ہی رہ گئی ہے۔ لیکن کیا ہوا اگر نقاب پوش خواتین اراکین اب نظر نہیں آتیں یا سفید داڑھیاں کم ہیں۔ ایوان میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹونوں اور فلم کا معاملہ ہو تو ایک سے بڑھ کر ایک رکن مذہب سے محبت کا اظہار کرسکتا ہے۔ اور منگل کے اجلاس میں یہی منظر دیکھنے اور تقاریر سننے کو ملیں۔
کسی نے ایوان کی کارروائی کے آغاز پر تلاوت کے بعد نعت بھی پڑھنے کا مطالبہ کیا، کسی نے مسلم ممالک کی سربراہ کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور کسی نے وہی پرانا مطالبہ کہ ڈنمارک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مانگ کی۔ لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس بائیکاٹ کا آغاز اپنے آپ سے شروع کرتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا علامتی قدم ہی ہوتا لیکن کچھ عملی طور پر ہوتا تو ضرور۔ اور تو اور اقلیتی برادری بھی پیچھے نہیں تھی۔ اقلیتی رکن اکرم مسیح نے اپنی تقریر میں غیرمسلموں کی جانب سے قرار داد کی حمایت کا یقین دلایا لیکن ساتھ ہی ایک پتے کی بات بھی کہہ دی۔ کراچی میں گزشتہ دنوں ایک ہندو کی مبینہ توہین رسالت کے بعد ہلاکت کے واقع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کا غلط الزام لگانے والے کو بھی پھانسی دی جانے چاہیے جس سے اس قسم کے واقعات ختم ہوجائیں گے۔ بعض اراکین کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کا ایک وفد یورپ بھیجے جانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ تاہم انہیں نہیں معلوم کہ قسم کے وفد ماضی میں بھی روانہ کیے گئے جن کا بظاہر قومی خزانے کو نقصان کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک ساتھی کا اس تجویز پر ہلکے سے انداز میں یہ بھی کہنا تھا کہ صحافیوں کو وفد میں شامل کرنا نہ بھولیئے گا۔ تقریباً تمام اراکین نے حکومت اور ایوان سے عملی اقدامات کا تقاضا کیا اور اس بابت تجاویز دیں۔ لیکن قرار داد بحث کے بعد پھر بھی وہی منظور کی گئی جو آغاز میں پڑھی گئی تھی۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی اب تک ہر اجلاس سے دیر سے آئیں لیکن آتے ضرور ہیں۔ انہیں مخاطب کرکے کئی اراکین نے تجاویز دیں لیکن وہ دیگر اراکین کے ایسے نرغے میں رہتے ہیں کہ ان کا جواب نہیں دیا۔ اس مذہبی طور پر حساس موضوع پر بحث جس وقت ایوان میں جاری تھی ٹھیک اسی وقت یورپی یونین کی خارجہ کمیٹی کے نائب صدر مائیکل گیلہر بھی مہمانوں کی گیلری میں نظر آئے۔ وہ ایوان کی کارروائی دیکھنے کی غرض سے آئے تھے لیکن مغرب کے خلاف تقاریر سن کر انہیں بھی اندازہ ہوا ہوگا کہ کارٹونوں کا دفاع کر کے وہ اچھے بھلے اعتدال پسند ایوان کو بھی سخت گیر بناسکتے ہیں۔ نئے ایوان کو وجود میں آنے کے بعد جن معاملات پر بظاہر رسمی کارروائی کرنی تھی ان میں سے ایک پیغمبر اسلام کا معاملہ بھی تھا۔ ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے جاری احتجاج اور دباؤ کے پیش نظر حکومت اور ایوان کے لیے یہ قرار داد ضروری سمجھی جاتی تھی۔ | اسی بارے میں قومی اسمبلی: کارٹون کی مذمت15 April, 2008 | پاکستان کارٹون: کراچی میں ہڑتال اور فائرنگ14 March, 2008 | پاکستان اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرے07 March, 2008 | پاکستان کارٹون ہنگاموں کے ملزمان بری27 February, 2007 | پاکستان ڈنمارک:غیرت کے نام پر قتل پر سزا28 June, 2006 | پاکستان غیرملکی اخباروں کے خلاف مقدمہ25 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||