کارٹون ہنگاموں کے ملزمان بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے گزشتہ سال ڈنمارک میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کے خلاف احتجاج کے موقع پر لاہور میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے واقعات کے ایک سو سے زیادہ ملزموں کو بری کردیا ہے۔ منگل کو انسداد دہشت گردی کے جج مکرب خان نے احتجاجی جلوس کی قیادت کرنے والے مذہبی رہنما سرفراز نعیمی سمیت ایک سو چھ ملزموں کو تمام الزامات سے بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ ڈنمارک کے ایک اخبار میں متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے طور پر گزشتہ سال چودہ فروری کو لاہور میں ہزاروں افراد نے ایک جلوس نکالا تھا جس میں شرکاء نے میکڈونلڈ، کے ایف سی اور سٹی بینک سمیت متعدد ریستورانوں، پنجاب اسمبلی کے ایک حصہ اور درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی۔ اس احتجاج کے دوران میں سکیورٹی گارڈز کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔ پولیس نے سولہ ایم پی او اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات اے کے تحت سول لائنز تھانہ میں دو الگ مقدموں میں انتیس اور اٹھارہ افراد کو، تھانہ گڑھی شاہو میں چوبیس اور تھانہ گوجر سنگھ میں پینتیس افراد کے خلاف مقدمے درج کیے تھے۔ یہ ملزمان اس وقت ضمانت پر رہا تھے۔ سرکاری وکیل سردار نجیب اللہ کا کہنا ہے کہ مذہبی رہنما سرفراز مفتی سمیت درجنوں افراد نامزد ملزم تھے جن کے خلاف استغاثہ نے گواہ بھی پیش کیے تھے۔ وکیل استغاثہ نے کہا کہ عدالت نے ان افراد کو شک کی بنیاد پر بری کیا ہے کیونکہ عدالت کا موقف تھا کہ اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ سینکڑوں لوگوں کے ہجوم میں کون سے مخصوص لوگ توڑ پھوڑ کرنے اور آگ لگانے میں ملوث تھے۔ جب وکیل استغاثہ سے پوچھا گیا کہ عدالت کے فیصلہ کے مطابق اگر تمام لوگ بے قصور ہیں تو چودہ فروری سنہ دو ہزار چھ کو لاہور میں زبردست ہنگامہ آرائی، جلاؤ اور توڑ پھوڑ کس نے کی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے قانون میں ملزموں کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو اسی لیے ایسا فیصلہ ہوا ہے۔ تاہم استغاثہ نے کہا کہ وہ تفصیلی فیصلہ دیکھ کر طے کریں گے کہ حکومت کو اس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنی چاہیے یا نہیں۔ | اسی بارے میں لاہور بسنت: چار مقدمات، تین گرفتار26 February, 2007 | پاکستان دھماکہ:لاہورچھاؤنی میں متعدد زخمی03 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||