اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت اور ہالینڈ کے ایک سیاستدان کی جانب سے بنائی جانے والی اسلام مخالف فلم کے خلاف جنمعہ کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جزوی ہڑتال ہوئی ہے جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں تاجروں، طلبہ اور مذہبی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور جلوس نکالے۔ ہڑتال کی کال جماعت اسلامی کی ہم خیال تنظیم پاسبان نے دی تھی جس کی بعض تاجر تنظیموں نے حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے موقع پر شہر کے بیشتر بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے، ٹرانسپورٹ بھی کم رہی جب کہ زیادہ تر اسکول بھی بند رہے اور سرکاری اور نجی دفاتر میں ملازمین کی حاضری بھی معمول سے کم رہی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی کال بڑی حد تک مؤثر رہنے کی بنیادی وجہ لوگوں کے مذہبی جذبات ہیں جو ڈنمارک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور دائیں بازو کے انتہا پسند ڈچ سیاستدان کی جانب سے بنائی جانے والی فلم سے مجروح ہوئے ہیں۔ تاجر برادری نے پچھلے دو ہفتوں سے شہر کے تقریباً تمام ہی بازاروں اور شاپنگ سینٹرز پر احتجاجی بینرز آویزاں کر رکھے ہیں جن میں ان خاکوں کی اشاعت کی مذمت کی گئی ہے۔ اس موقع پر شہر میں معمول سے زیادہ حفاظتی انتظامات نظر آئے۔ مختلف غیرملکی تجارتی اداروں، ریستورانوں اور مسیحی تنظیموں کے دفاتر اورگرجا گھروں کے باہر پولیس اہلکار تعینات کیےگئے تھے جب کہ شہر میں پولیس اور رینجرز کا گشت بھی جاری رہا۔ دوسری جانب مختلف مذہبی اور تاجر تنظیموں کی جانب سے پریس کلب اور آرام باغ کے مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جس میں ڈنمارک اور ہالینڈ کے خلاف نعرے لگائے گئے اور ڈنمارک کے جھنڈے اور ڈینش وزیراعظم کے پتلے بھی جلائے گئے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کے کارٹونسٹوں اور اخبارات نے گستاخانہ کارٹون شائع کرکے پورے عالم اسلام کو چیلنج کیا ہے جس کا مسلمانوں کو متحد ہوکر سیاسی، سفارتی اور معاشی میدانوں میں مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ یورپی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور یورپی کمپنیوں سے موبائل اور بینکنگ کی سروس حاصل کرنا بند کردیں۔ توہین آمیز خاکوں اور اسلام مخالف فلم کے خلاف اندرون سندھ کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب، بلوچستان اور سرحد کے بھی مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور جلوس نکالے گئے۔ | اسی بارے میں برلن: احتجاج کے بعد نمائش معطل01 March, 2008 | آس پاس ’توہین آمیزخاکے‘: قراردادِ مذمت26 February, 2008 | آس پاس کارٹون: کراچی میں مظاہرے01 March, 2008 | پاکستان توہین آمیز کارٹون کی دوبارہ اشاعت14 February, 2008 | آس پاس پیغمبرِ اسلام کے کارٹون پر افسوس31 August, 2007 | آس پاس پاکستانی احتجاج، برطانوی تشویش19 June, 2007 | پاکستان ڈنمارک: پرتشدد مظاہرہ، 100گرفتار 03 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||