برلن: احتجاج کے بعد نمائش معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برلن کی ایک آرٹ گیلری نے مسلمانوں کے احتجاج پر ایک نمائش کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جس میں شامل ایک پوسٹر میں مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام خانۂ کعبہ کی بے حرمتی کی گئی تھی۔ نمائش میں شامل ایک پوسٹر پر کعبے کی تصویر کے اوپر نازیبہ الفاظ لکھے گئے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ نمائش معطل کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کی دھمکیوں کے بعد کیا گیا۔ یہ نمائش ڈنمارک کے ایک گروپ ’سرینڈ‘ نے لگائی تھی جس کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ اس پوسٹر میں یہودی سازشوں کے نظریے کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔ ڈنمارک کے آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ’سازش کے نظریے‘ پر بھی طنز کرنا چاہتے تھے کہ ہر چیز کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق یہ نازی خیالات کو ماننے والوں اور عرب دنیا میں یہ خیال عام ہے۔ برلن میں آرٹ گیلری کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اگر پوسٹرر نہ اتارا گیا تو تشدد ہو سکتا ہے۔ سرینڈ گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مشن ہے کہ وہ دنیا کے طاقتور ترین افراد اور بقول ان کے نامعقول نظریاتی تنازعات کا مذاق اڑایا جائے اور وہ اس مقصد کے لیے سٹیکرز، پوسٹرز اور اشتہارات کا سہارا لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ڈنمارک میں اخبارات نے پیغمبرِ اسلام کے ان متنازعہ کارٹونوں میں سے ایک کارٹون دوبارہ شائع کیا تھا جس کی وجہ سے سنہ 2005 میں مسلم دنیا میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ ان اخبارات کی جانب سے یہ کارٹون ایک کارٹونسٹ کے قتل کی مبینہ سازش کے سامنے آنے کے بعد چھاپا گیا ہے اور ان اخبارات کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ متنازعہ کارٹون پہلی مرتبہ ستمبر سنہ 2005 میں شائع ہوا تھا اور اس کے بعد دنیا بھر میں نہ صرف ڈنمارک کے سفارتخانوں پر حملے ہوئے تھے بلکہ پرتشدد ہنگاموں میں متعدد افراد مارے بھی گئے تھے۔ |
اسی بارے میں توہین آمیز کارٹون کی دوبارہ اشاعت14 February, 2008 | آس پاس کارٹون تنازعہ، مغرب اور اسلامی دنیا کے روابط14 February, 2006 | آس پاس کارٹون: بنگلہ دیش میں احتجاج 17 February, 2006 | آس پاس کارٹون: لیبیا میں احتجاج، 10 ہلاک 17 February, 2006 | آس پاس نائجیریا میں احتجاج، 16 ہلاک18 February, 2006 | آس پاس لیبیا: پرتشدد مظاہروں کی ویڈیو18 February, 2006 | آس پاس ’کارٹون بنانے پر افسوس نہیں‘19 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||