BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 March, 2008, 04:23 GMT 09:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برلن: احتجاج کے بعد نمائش معطل
برلن آرٹ گیلری
گیلری نے پرتشدد مظاہروں کے خطرے کے پیشِ نظر نمائش معطل کر دی
برلن کی ایک آرٹ گیلری نے مسلمانوں کے احتجاج پر ایک نمائش کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جس میں شامل ایک پوسٹر میں مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام خانۂ کعبہ کی بے حرمتی کی گئی تھی۔

نمائش میں شامل ایک پوسٹر پر کعبے کی تصویر کے اوپر نازیبہ الفاظ لکھے گئے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ نمائش معطل کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کی دھمکیوں کے بعد کیا گیا۔

یہ نمائش ڈنمارک کے ایک گروپ ’سرینڈ‘ نے لگائی تھی جس کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہے۔

اس پوسٹر میں یہودی سازشوں کے نظریے کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔

ڈنمارک کے آرٹسٹوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ’سازش کے نظریے‘ پر بھی طنز کرنا چاہتے تھے کہ ہر چیز کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ ہے۔ ان کے مطابق یہ نازی خیالات کو ماننے والوں اور عرب دنیا میں یہ خیال عام ہے۔

برلن میں آرٹ گیلری کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اگر پوسٹرر نہ اتارا گیا تو تشدد ہو سکتا ہے۔

سرینڈ گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا مشن ہے کہ وہ دنیا کے طاقتور ترین افراد اور بقول ان کے نامعقول نظریاتی تنازعات کا مذاق اڑایا جائے اور وہ اس مقصد کے لیے سٹیکرز، پوسٹرز اور اشتہارات کا سہارا لیتے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ڈنمارک میں اخبارات نے پیغمبرِ اسلام کے ان متنازعہ کارٹونوں میں سے ایک کارٹون دوبارہ شائع کیا تھا جس کی وجہ سے سنہ 2005 میں مسلم دنیا میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔

ان اخبارات کی جانب سے یہ کارٹون ایک کارٹونسٹ کے قتل کی مبینہ سازش کے سامنے آنے کے بعد چھاپا گیا ہے اور ان اخبارات کا کہنا ہے کہ وہ آزادی اظہار کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔

یہ متنازعہ کارٹون پہلی مرتبہ ستمبر سنہ 2005 میں شائع ہوا تھا اور اس کے بعد دنیا بھر میں نہ صرف ڈنمارک کے سفارتخانوں پر حملے ہوئے تھے بلکہ پرتشدد ہنگاموں میں متعدد افراد مارے بھی گئے تھے۔

 ایران کاکروچ کا کارٹون
ایران میں ایڈیٹر، کارٹونسٹ اور اخبار بند
اخبار کا موقف
کارٹون کیوں بنوائے اور شائع کیے گئے؟
سلمان رشدیکارٹون تنازعہ
ادیبوں کا آزادیِ اظہار کے حق میں بیان
مظاہرےتوہین اور ٹی شرٹیں
اطالوی وزیر بھی میدان میں کود پڑے
ایان ہرسی علیڈچ ایم پی کہتی ہیں
’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد