ڈنمارک: پرتشدد مظاہرہ، 100گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک میں نوجوانوں کے ایک مرکز پر قابض بائیں بازو کے افراد کو ہٹائے جانے کی مخالفت کرنے والے لگ بھگ 100 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دارالحکومت کوپن ہیگن میں واقع اس مرکز پر یہ مظاہرہ دو دن سے جاری ہے۔ جمعہ کی شب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے کاروں کو آگ لگادی اور پیٹرول بم پھینکے۔ بائیں بازو کے کارکنوں نے نوجوانوں کے اس مرکز پر 1982 سے قبضہ کررکھا ہے لیکن سن 2000 میں اس عمارت کو ایک قدامت پسند مسیحی تنظیم نے خرید لیا۔
پولیس نے بتایا کہ سنیچر کی صبح بھی مظاہرین نے پتھر پھینکے، کاروں کو آگ لگادی، توڑ پھوڑ کی اور راستے بلاک کردیے۔ پولیس کے ترجمان فلیمنگ اسٹِین نے بتایا کہ کم سے کم ایک سو مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اختتام ہفتہ پر تشدد اور توڑ پھوڑ کا خدشہ برقرار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں فرانس، جرمنی، ناروے، پولینڈ، لتھوینیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے شہری بھی شامل ہیں۔ ڈنمارک کی حکومت نے مظاہرین کی مذمت کی ہے۔ | اسی بارے میں لاطینی امریکہ : بائیں بازو کا عروج05 March, 2005 | آس پاس احتجاج شہروں سے دور رکھنے کا عزم 14 November, 2005 | آس پاس چے گویرا کے راستوں پر ایک بار پھر26 August, 2004 | آس پاس ہنگری ہنگامے، ٹی وی سینٹر پر قبضہ19 September, 2006 | آس پاس برطانیہ میں فسادات کی وارننگ22 October, 2006 | آس پاس ’فسادات کو سختی سے روکیں گے‘13 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||