BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 March, 2007, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈنمارک: پرتشدد مظاہرہ، 100گرفتار
مظاہرین کا تعلق کئی ممالک سے ہے
ڈنمارک میں نوجوانوں کے ایک مرکز پر قابض بائیں بازو کے افراد کو ہٹائے جانے کی مخالفت کرنے والے لگ بھگ 100 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دارالحکومت کوپن ہیگن میں واقع اس مرکز پر یہ مظاہرہ دو دن سے جاری ہے۔

جمعہ کی شب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے کاروں کو آگ لگادی اور پیٹرول بم پھینکے۔

بائیں بازو کے کارکنوں نے نوجوانوں کے اس مرکز پر 1982 سے قبضہ کررکھا ہے لیکن سن 2000 میں اس عمارت کو ایک قدامت پسند مسیحی تنظیم نے خرید لیا۔

مرکز پر 1982 سے قبضہ
 بائیں بازو کے کارکنوں نے نوجوانوں کے اس مرکز پر 1982 سے قبضہ کررکھا ہے لیکن سن 2000 میں اس عمارت کو ایک قدامت پسند مسیحی تنظیم نے خرید لیا۔
اس قدامت پسند مسیحی تنظیم کا نام فادرہوسیت ہے جسے اب عدالت نے اس عمارت کو خالی کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن عمارت پر قبضہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب تک یہ عمارت استعمال میں ہے حکومت کو اسے فروخت کرنے کا حق نہیں ہے۔

پولیس نے بتایا کہ سنیچر کی صبح بھی مظاہرین نے پتھر پھینکے، کاروں کو آگ لگادی، توڑ پھوڑ کی اور راستے بلاک کردیے۔

پولیس کے ترجمان فلیمنگ اسٹِین نے بتایا کہ کم سے کم ایک سو مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اختتام ہفتہ پر تشدد اور توڑ پھوڑ کا خدشہ برقرار ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں فرانس، جرمنی، ناروے، پولینڈ، لتھوینیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے شہری بھی شامل ہیں۔ ڈنمارک کی حکومت نے مظاہرین کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد