ہنگری ہنگامے، ٹی وی سینٹر پر قبضہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہنگری کے دارالحکومت بداپسٹ میں ہزاروں مظاہرین سرکاری براڈ کاسٹنگ ہاؤس میں گھس گئے ہیں اور ہنگری ٹیلویژن کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم فرنچ جوچان کےاس اعتراف کے بعد کہ اس نے انتخاب جیتنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تھا، مظاہرین وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بداپسٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق تقریباً پانچ ہزار سے زیادہ مظاہرین سرکاری ٹیلویژن سینٹر میں گھس گئے ہیں اور پولیس جو سارا دن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے آنسو گیس کا استعمال کرتی رہی ہے، اب اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ مظاہرین کی ایک تعداد صبح سے براڈ کاسٹنگ ہاؤس کے سامنے ایک پیٹیشن کے ساتھ موجود تھےجو وہ ٹی وی پر پڑھنا چاہتے تھے۔ رفتہ رفتہ مظاہرین کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ مظاہرین جس میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظر آ رہی ہے، بلڈنگ پر پتھرؤ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کئی کاروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ براڈکاسٹنگ ہاؤس سے عملے کو نکال لیا گیا اور ٹی وی سینٹر اس وقت مظاہرین کے قبضے میں بتایا جاتا ہے۔ ہنگامے اس شروع ہوئے جب اپریل میں منتخب ہونے والی والے سوشلسٹ وزیر اعظم فرنچ جوچان کی ایک پرائیوٹ کانفرنس کہی گئی باتیں عام ہو گئیں۔ ممبران اسمبلی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم فرنچ جوچان یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ انتخابات جیتنے کے لیئے انہوں نے ملک کی معیشت کے بارے میں خوب جھوٹ بولا۔ اس گفتگو میں وہ یہ بھی کہتے ہوئے سنے گئے کہ الیکشن کے دوران وہ صبح بھی جھوٹ بولتے تھے اور شام کو جھوٹ بولتے تھے۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ پرائیوٹ گفتگو کی تفصیلات منظر عام تک کیسے آئیں۔ | اسی بارے میں یورپی افق پر ہائی ٹیک کا ستارہ29 April, 2004 | نیٹ سائنس روسی گیس: تنازع سنگین ہو سکتا ہے02 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||