یورپی افق پر ہائی ٹیک کا ستارہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی یورپ میں کہاوت ہے کہ اگر کسی گھومنے والے دروازے میں کوئی آپ کے بعد داخل ہو اور آپ سے پہلے باہر نکلے تو سمجھ لیں کہ ہنگری کا باشندہ ہے۔ اور یہ کہاوت ہنگری کے لوگوں نے واقعی سچ کر دکھائی ہے کیونکہ وہ ہائی ٹیک صنعت میں دیر سے قدم رکھنے کے باوجود علاقے بھر میں سب سے آگے ہیں اور یہ حالیہ تبدیلی ہے۔ اس سے پہلے تک ہنگری کم لاگت کی مصنوعات تیار کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ کل، یکم مئی کو یورپی یونین میں شامل ہونے والے دس ملکوں میں ہنگری بھی شامل تھا۔ مغربی یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی ہنگری نے اپنی توجہ سائنسی تحقیق اور ہائی ٹیک صنعت کی جانب مبذول کر لی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک طرف تو آئی بی ایم نے اپنا ہارڈ ڈرائیو بنانے کا کام اور مائیکروسافٹ نے ایکس باکس کی صنعت، ہنگری کی بجائے مشرق بعید کے ممالک میں منتقل کر دی ہے، لیکن دوسری جانب دنیا بھر سے تحقیقی کام اور نئی ٹیکنالوجی کے منصوبے یہاں آنے لگے ہیں۔ انہی میں سویڈن کی ٹیلیفون کمپنی ایریکسن بھی شامل ہے جو اپنی مستقبل کی مصنوعات پر تحقیق اور تجربات کا کام یہیں انجام دے رہی ہے۔ ہنگری میں یوں تو بیشتر عمارات پرانی اور کسی قدر بوسیدہ نظر آتی ہیں، لیکن دارالحکومت بوداپیسٹ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کی آن بان ہی کچھ اور ہے۔ چمکتی دھات اور دمکتے شیشے سے مزین یہ ادارہ جدید ترین آلات اور تربیتی سہولیات سے لیس ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ہنگری کی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہنگری کے اس عزم سے بین الاقوامی کاروباری ادارے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اور جوق در جوق یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ ایریکسن کے علاوہ جنرل الیکٹرک، بوش، سائیمینز، ہیؤلیٹ پیکارڈ، اور موٹرولا بھی اس کارواں میں شامل ہیں، جبکہ پہلے سے موجود نوکیا اپنی صنعتی استعداد بڑھا کر ملک کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بننے کے لئے کوشاں ہے۔ تاہم یہ جوش و خروش صرف بیرونی کمپنیوں تک ہی محدود نہیں۔ بعض مقامی اداروں نے بھی ترقی کرتے کرتے عالمی ہائی ٹیک اداروں کی صف میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔ اس کا آغاز تو کمیونسٹ دور میں ہوا تھا جب سوویت بلاک کے لئے بجلی کی مصنوعات بنانے کا کام ہنگری کو سونپا گیا تھا۔ جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا اس وقت تک یورپ کے سب سے زیادہ تجربہ کار انجینئر ہنگری میں تھے۔ اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک کے نجی سیکٹر نے ٹیکنالوجی کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سرمایہ کاری کی اور نتیجہ یہ ہے کہ آج سائینس کا طالبعلم اس اعتماد سے تعلیمی ادارے میں قدم رکھتا ہے کہ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ایک کارآمد اور خوشحال مستقبل اس کا منتظر ہے، اور یہ کہ نئے یورپ میں ہنگری صرف ایک صارفین کی منڈی کے طور پر نہیں بلکہ ایک مخصوص مہارت کے حوالے سا جانا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||