BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 November, 2005, 23:42 GMT 04:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج شہروں سے دور رکھنے کا عزم
صدر شیراک
احتجاج کو شہروں میں پھوٹنے سے روکنے کے لیے نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جائیں گے
فرانس کے صدر شیراک اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ احتجاج کو شہروں میں پھوٹنے سے روکنے کے لیے نوجوانوں کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

تشدد شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی جانے والی پہلی تفصیلی تقریر میں صدر شیراک نے ’معنی کے بحران، ایک شناحت کا بحران‘ کی بات کی ہے۔

انہوں نے نسل پرستی کی ’زہر‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور اعلان کیا کہ 2007 تک 50 ہزار نوجوانوں تربیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

صدر شیراک نے کہا کہ وہ امن و امان کو ترجیح دیں گے اور جن لوگوں نے ہنگامہ آرائی کی ہے انہیں قانون کے سامنے لائیں گے اور غیر قانونی نقلِ مکانی کا خاتمے کر کے رہیں گے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ وزیراعظم ڈومینک ڈی ویلیپاں سے کہیں گے کہ وہ پارلیمنٹ سے کہیں کہ ہنگامی قوانین کے نفاذ اور ملک کے کسی بھی شہر میں کرفیو لگانے کے قوانین میں توسیع کی منظوری دی جائے۔

ایلسی پیلس میں یوپی یونین اور فرانس کے پرچموں کے پہلو میں کھڑے ہو کی خطاب کرتے ہویے صدر شیراک نے نے کہا کہ تشدد کی لہر نے فرانسیسی معاشرے میں پائے جانے والے گہرے ہیجان کو اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے کہا’امتیازی سلوک سے ہم سب آگاہ ہیں‘ اور اس کے ساتھ ہی امریکی انداز کا کوٹہ سسٹم اپنانے کو مسترد کرتے صدر نے کہا کہ نوجوانوں کو مساوی مواقع حاصل ہونے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’کتنی ہی درخواستیں ہوتی ہیں جنہیں صرف درخواس گزاروں کے ناموں اور پتوں کی وجہ سے ردی کی ٹوکریوں کی نذر کر دیا جاتا ہے‘۔

’جو بھی ہماری قومی برادری سے تعلق رکھتا ہے اسے لازماً قانون کا احترام کرنا چاہیے‘۔ شیراک

اس فوراً ہی بعد انہوں امن و امن اور قانون کی بالا دستی کا دفاع کرتے ہوئے ان لوگوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے اپنے عضے کو تشدد کی شکل دے دی۔

صدر شیراک نے کہا ’مشکلات بہت سے فرانسیسیوں کو پیش آتی ہیں لیکن تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جو بھی ہماری قومی برادری سے تعلق رکھتا ہے اسے لازماً قانون کا احترام کرنا چاہیے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد