فرانس میں کرفیو اور ایمرجنسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی کابینہ تشدد ختم کرنے کے لیے کرفیو اور ایمرجنسی کا اختیار مقامی حکام کو دے دیا ہے۔ لگ بھگ دو ہفتے سے جاری فسادات پر قابو پانے کے لیے فرانسیسی وزیراعظم ڈومنِک دی ولیپاں نے پیرس اور دیگر شہروں میں کرفیو کے نفاد کا عندیہ دیا تھا۔ جاری فسادات کے دوران پیرس کے مضافات اور دیگری فرانسیسی شہروں میں دکانوں، اسکولوں، فیکٹریوں اور ہزاروں کاروں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔ یہ فسادات ان علاقوں میں ہوئے جہاں نسلاً غیرفرانسیسی تارکین وطن رہتے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد فرانسیسی وزیر داخلہ نکولاس سرکوزی نے کہا کہ ہنگاموں کی صورت میں مقامی حکام جہاں ضروری سمجھیں گے کرفیو نافذ کر سکیں گے تا کہ ہنگاموں پر فوری قابو پایا جا سکے۔ اس کے علاوہ پولیس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے وہ ہتھیار جمع کرنے یا رکھے جانے کے شک کی بنیاد پر جہاں بھی ضروری سمجھے چھاپے مار سکتی ہے۔ پولیس کو متاثرہ علاقوں میں مزید پندرہ سو کی نفری دی گئی ہے۔ وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ خود حکومت پختہ عزمی، تحمل اور میانہ روی کی پالیسی پر قائم رہے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگاموں کی بارہویں رات قدرے خاموش گزری لیکن اب تک ایک ہزار گاڑیاں جلائی جا چکی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے یہ تعداد چودہ سو سے زائد بتائی گئی تھی۔ ان ہنگاموں نے اب تک پیرس کے نواح میں واقع ڈیڑھ درجن سے زائد قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہوا تھا۔ ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ | اسی بارے میں فرانسیسی معاشرے میں تبدیلی کااشارہ 08 November, 2005 | آس پاس فرانس میں کرفیو کا اعلان، تشدد جاری08 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں کاریں نذر آتش، پچاس گرفتار05 November, 2005 | آس پاس فرانسیسی فسادیوں کو کڑی وارننگ05 November, 2005 | آس پاس فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس انتباہ کے باوجود ہنگامے جاری06 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں گاڑیاں نذر آتش، تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس تشدد شدید: پیرس کے نواح میں کرفیو 07 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||