کارٹون: کراچی میں ہڑتال اور فائرنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈنمارک میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف کراچی میں کاروباری زندگی معطل رہی تمام بڑی مارکیٹیں اور بازار بند رہے بسوں اور منی بسوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ سنی تحریک کی جانب سے جمعہ کو شٹر بند ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔ جن میں جماعت اسلامی اور تحریک جعفریہ سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔ جن میں ڈنمارک کے قومی پرچم نذر آتش کیے گئے اور نعرے لگائے گئے۔ صبح ہی سے شہر میں صدر، جامع کلاتھ، بولٹن مارکیٹ، لیاقت مارکیٹ اور طارق روڈ کے بازار مکمل طور پر بند رہیں جبکہ کئی علاقوں میں پٹرول پمپوں کو قناتیں لگا کر بند کیا گیا۔ نیو کراچی، بفر زون، فیڈرل بی ایریا، چاند بی بی روڈ، طارق روڈ اور کورنگی سمیت کچھ علاقوں میں چھ کے قریب بسوں اور مِنی بسوں کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کردیا تھا۔ اس کے بعد صبح کو سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے کم تھی اور لوگوں کو دفاتر پہنچنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم بعد دوپہر ٹرانسپورٹ بحال ہونا شروع ہو گئی۔ انہیں علاقوں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس میں چھ کے قریب افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو سول اور جناح ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔ سنی تحریک کی جانب سے تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹروں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ جمعہ کے روز اپنا کاروبار بند رکھیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی نے مظاہرے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ناموس مصطفیٰ لیے اپنی جان قربان کرنے اور جدو جہد جاری رکھنے کا عزم کیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ بات تکلیف دہ ہے کہ سینیگال میں ہونے والی مسلم کانفرنس میں ابھی تک ان خاکوں کے سلسلے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا۔ مسلم ممالک کو ڈنمارک سے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنا چاہئیں، مغربی دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ آزادی صحافت کے نام پر مسلمانوں سے زیادتی نہ کرے‘۔ سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری کا کہنا ہے کہ تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عوام نے بھرپور ساتھ دیا ہے۔ مگر کچھ شرپسند عناصر نے ٹرانسپورٹروں کو بہت زیادہ تنگ کیا ہے اور زبردستی گاڑیاں چلوانے کی کوشش کی ہے جس میں چار کارکن زخمی ہوگئے ہیں۔ شاہد غوری کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے بیس کے قریب کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ دوسری جانب حیدرآباد سے ہمارے نامہ نگار علی حسن کے مطابق حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں ٹائر جلائے گئے ہیں بعض علاقوں میں ہوائی فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کے طلبہ کی بسوں پر پتھراؤ کیا گیا جس کے خلاف طالب علموں نے انڈس ہائی وے پر دہرنا دے کر احتجاج کیا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں گیارہ اپریل دو ہزار چھ کو عیدِ میلادالنبی کے جلسے میں ہونے والے بم دھماکے میں ستاون سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے تھے جن میں سنی تحریک کی قیادت بھی شامل تھی۔ | اسی بارے میں اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرے07 March, 2008 | پاکستان کارٹون: کراچی میں مظاہرے01 March, 2008 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان برطانوی سفارتی عملے کی سکیورٹی میں اضافہ26 June, 2007 | پاکستان چندہ کی رقم، چیمہ کی برسی پر تنازعہ01 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||