BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باؤچر کی نواز شریف سے ملاقات

یہ ملاقات نواز شریف کے رائے ونڈ فارم پر ہوئی
مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف سے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے ملاقات کی ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما چودھری نثار علی خان نے کہا کہ نواز شریف نے رچرڈ باؤچر پر واضح کردیا گیا ہے کہ ملکی داخلی معاملات میں مسلم لیگ نون کی پالیسی ’میڈ ان پاکستان‘ ہوگی۔

چودھری نثار علی خان ڈھائی گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں شامل تھے جو لاہورکے نواح میں نواز شریف کے رائے ونڈ فارم پر ہوئی۔

مسلم لیگی رہنما چودھری نثار علی خان نے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ پرواضح کردیا گیا ہے کہ ان کی آمد سے چوبیس گھنٹے پہلے جو عسکری آپریشن شروع کیا گیا مسلم لیگ نون اس سے بےخبر ہے۔

انہوں نے کہا ان کی پارٹی کو یہ بھی علم نہیں ہے کہ اس علاقے میں امن کے لیےکوئی معاہدے ہوئے تھے یا نہیں اگر ہوئے توکس کے ساتھ ہوئے تھے اور یہ کب ختم ہوئے ہیں؟

امریکی نائب وزیر خارجہ سے ہونے والی ملاقات میں پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف اور مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف بھی شریک ہوئے۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ رچرڈ باؤچر کو کہا گیا کہ آٹھ برس کے دوران پرویز مشرف آپ کو استعمال کرتے رہے اور جب بھی کوئی امریکی عہدیدار آتا تو اسے لاشوں اور خون کا تحفہ پیش کرکے کہا جاتا کہ آپ کے لیے بڑی جنگ لڑی جارہی ہے۔

مسلم لیگی رہنما کے بقول رچرڈ باؤچر کو کہا گیا کہ بدقسمتی سے اسی عمل کو دہرایا گیا اور ان کے آنے سے چوبیس گھنٹے پہلے بھی کارروائی شروع کی گئی۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ سب سے بڑی اتحادی پارٹنر ہونے کے باوجود انہیں یہ علم نہیں ہے کہ اس کارروائی کے محرکات کیا ہیں؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف واضح ہے کہ یہ فیصلے ہم نے کرنے ہیں پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے کرنے ہیں اس لیے ان تمام معاملات کو پارلیمان میں لے جانا چاہیے۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ مسلم لیگ نون کے موقف کا اعادہ کیا گیا کہ اندرونی معاملات میں پر فیصلے خود ہمارے سیاسی نظام کو طے کرنا ہے۔اگر ہمارے باہر کےدوست یا خود کو پاکستان کا دوست کہلانے والی غیر ملکی طاقتیں پاکستان اگر سہولت فراہم نہیں کرسکتیں تو پھر ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ٰ

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ رچرڈ باؤچر سے ملاقات کے دوران صدر مشرف کے بارے میں ان کی جماعت کا موقف بالکل واضح تھا کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل،اور جمہری عمل کو آتے بڑھانے کے راستےمیں کانٹا ہیں ایک رکاوٹ ہیں جسے دورکرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا موقف ان کے موقف کے قریب نہیں تھا لیکن امریکی نائب وزیر خارجہ نے اپنے اسی امریکی موقف کا اعادہ کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے عوام سے دوستی رکھنا چاہتے ہیں اور کسی فرد نہیں بالخصوص نئی جمہوری حکومت اور پارلیمان کے ساتھ معاملات کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔

چودھری نثار علی خان نےصحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں قبائلی علاقوں میں آپریشن بند کرنےکے مطالبے سے گریز کیا اور کہا کہ ’ہم اتحاد کاحصہ ہیں لیکن اپوزیشن میں نہیں ہیں ہم نے واضح طور پر آپریشن کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر اعظم سے بھی بات کی جائے گی جبکہ آصف زرداری بھی پاکستان لوٹنے والے ہیں ان سے بھی بات کی جائے گی۔

امریکی عہدیدار رچرڈ باؤچر نے لاہور کے گورنر ہاؤس میں پنجاب کے گورنرسلمان تاثیر سے بھی ملاقات کی۔اس سے پہلے انہوں نے اسلام آبادمیں وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف سمیت مختلف اہم عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد