BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 June, 2008, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوازشریف: نااہلی کی سماعت ملتوی

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے فیڈریشن کی طرف سے دائر درخواست پر حلقہ این اے 123 میں ضمنی انتخابات ملتوی کر دیے تھے
سپریم کورٹ کے جج جسٹس موسیٰ کے لغاری پر مشتمل تین رُکنی بینچ نے پیر کے روز پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نواز شریف کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والے درخواستوں میں خرم شاہ اور نور الہی کو فریق بنایا گیا ہے۔

خرم شاہ کے وکیل احمد رضا قصوری نے جواب دعویٰ دائر کرنے کے بعد دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاق پاکستان کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کے بارے میں اعلیٰ عدالتوں میں انتخابی پٹیشن دائر کر سکے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ان افراد کی درخواستوں پر میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے یہ رٹ دو سیاسی جماعتوں کی ملی بھگت سے دائر کی گئی ہے۔

ملی بھگت
احمد رضا قصور ی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاق پاکستان کی طرف سے یہ رٹ دو سیاسی جماعتوں کی ملی بھگت سے دائر کی گئی ہے۔ الیکشن کے بارے میں جو بھی رٹ دائر کی جائے گی وہ آئین کے ارٹیکل دو سو پچیس کے تحت ہوگی اور اس کو آئینی پٹیشن قرار نہیں دیا جا سکتا

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بارے میں جو بھی رٹ دائر کی جائے گی وہ آئین کے ارٹیکل دو سو پچیس کے تحت ہوگی اور اس کو آئینی پٹیشن قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ اُن کے موکل نے آئین کے ارٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت دائر کی ہے اور یہ ایک آئینی پٹیشن ہے۔

احمد رضا قصوری نے کہا کہ حلقہ این اے ایک سو تئیس میں میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال اور تائید کنندہ شکیل بیگ نے ایک ایسے شخص کو ضمنی انتخابات میں نامزد کیا ہے جو کہ عوامی نمائندگی ایکٹ میں دی گئی شرائط پر پورا نہیں اُترتے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نہ صرف مختلف بینکوں کے نادہندہ ہیں بلکہ وہ فوج اور عدلیہ کی بھی تذلیل کرتے ہیں۔

مدعا علیہ کے وکیل نے کہا کہ نواز شریف ان عدالتوں کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر وہ انصاف مانگنے کے لیے دوسروں کے ذریعے ان عدالتوں کا کیوں رُخ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد کو خود عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے مذکورہ حلقے میں فوری انتخابات کروائے جانے چاہیے اور ان درخواستوں کی سماعت صرف منگل کے روز تک ملتوی کی جانی چاہیے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبدالرحمن نے کہا کہ اُن کی رائے میں میاں محمد نواز شریف انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی کو الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے جس کو حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مدعاعلیہان نے اپنی درخواستوں میں مختلف اعتراضات اُٹھائے ہیں جنہیں پڑھنے کے لیے اُنہیں وقت درکار ہے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پچیس جون کو فیڈریشن کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر حلقہ این اے 123 میں ضمنی انتخابات ملتوی کر دیے تھے۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ کی طرف پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کی اہلیت کا معاملہ الیکشن ٹربیونل کو بھیجنے کے بارے میں سپریم کورٹ میں تین درخواستیں دائر کی گئی ہیں یہ درخواستیں پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور حکومت پنجاب کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد