ن لیگ کا اسمبلی سے پہلا واک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے پارٹی کے قائد نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلی مرتبہ احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ مسلم لیگ کے کارکنوں نے اسمبلی کے اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نعرے لگائے۔ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور میں میاں نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرکے باہر آنے والے مسلم لیگ کے منتخب ارکان نے کہا کہ اسمبلی کے اندر موجود تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بدھ کو نواز شریف کی نااہلیت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔ اپیل کا اعلان وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے قومی اسمبلی میں کل کے عدالتی فیصلے پر بحث کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق انتخابی معاملات پر سماعت کا حق انتخابی ٹرائبونلز کے پاس ہے جو کام کر رہے ہیں۔
’لاہور ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا حق نہیں تھا تاہم انہوں نے اپنی دانست کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے حکم امتناعی کی درخواست کریں گے کیونکہ ضمنی انتخاب اگلے روز یعنی چھبیس جون کو منعقد ہو رہے ہیں۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اہم قانونی معاملہ ہے اور اس کے لیئے جائز سماعت کا موقع دیا جانا چاہیے۔‘ انہوں نے ایوان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین خاص طور پر اپنے ہی اتحادی مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلز پارٹی پر تنقید پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے اس مسئلے پر واضع مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت اس فیصلہ کے خاتمے کے لیئے تمام آئینی و قانونی ذرائع استعمال کرے گی اور انہیں امید ہے کہ فتح ان ہی کی ہوگی۔ منگل کو ایوان کی کارروائی کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنما چوہدری نثار علی خان نے نقطہ اعتراض پر عدالتی فیصلے کا معاملہ اٹھایا اور تفیصلی بحث کا تقاضہ کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایوان سے معمول کی کارروائی روک کر اس معاملے پر تفصیلی بحث کروانا چاہی۔
تاہم سپیکر فہمیدہ مرزا نے چند اراکین کو اس معاملے پر اظہار خیال کا موقع فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر معاملے پر دو رائے ہوتی ہیں۔ چوہدری نثار نے اپنی تقریر میں ایوان سے دریافت کیا کہ وہ آج فیصلہ کرے کہ اسے جمہوریت کی جانب جانا ہے یا آمریت کی جانب۔ انہوں نے حزب اختلاف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی فوجی آمر کی وردی سے چمٹ کر اقتدار میں نہیں آئیں گے جبکہ حزب اقتدار کو اپنی غلطیاں نہیں دہرانی چاہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کی اور جانوں کی قربانیاں دیں لیکن آج یہ جماعت ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ ’میں جانتا ہوں یہ ایسا نہیں کرے گی۔’ وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ ججوں نے یہ فیصلہ ان کے کہنے پر نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس فیصلے کی سماعت کے دوران مخالفت کی تھی۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر معزول ججوں سے متعلق اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آئین اور قانون کے تحت بحال کریں گے۔ ’ڈنڈے کے زور پر انہیں بحال نہیں کیا جائے گا۔ دو غلط باتوں سے ایک درست بات نہیں بنتی۔‘ بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے رکن ریاض حسین پیرزادہ نے حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑی وہ اپنی نشست چھوڑ دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال، اور ایاز امیر نے بھی تقاریر کیں اور کہا کہ اگر اعلان مری پر پیپلز پارٹی کاربند رہتی تو آج یہ فیصلہ نہیں دیکھنا پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر نے کل اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو انہیں پی سی او والی عدالتوں کا سہارا لیں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے شیخ وقاص نے اپنی جماعت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا وہ تقاریر کا اپنا وقت بھی پیپلز پارٹی کو دینے کو تیار ہیں تاکہ وہ اپنی پوزیشن واضع کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملہ پر مزید کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہے۔ | اسی بارے میں نااہلی پر اپیل حکومت کرے گی:اشتر اوصاف 23 June, 2008 | پاکستان نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا گیا 23 June, 2008 | پاکستان اہلیت کیس:یکطرفہ کارروائی کا فیصلہ19 June, 2008 | پاکستان جج پر اعتراض، بنچ ٹوٹ گیا21 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||