نااہلی پر اپیل حکومت کرے گی:اشتر اوصاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اور ان کے بھائی شہبازشریف نے لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلہ کے خلاف داد رسی کے لیے خود عدالتِ عالیہ سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شریف خاندان کے وکیل اشتر اوصاف علی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو وفاقی حکومت عدالت میں چیلنج کرے گی۔ پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا ہے جبکہ عدالتی حکم کے مطابق مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اس وقت تک وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں جب تک ان پر لگائے جانے والے اعتراضات پر الیکشن کمیشن طرف سے فیصلہ سامنے نہیں آ جاتا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نے کرنے کا فیصلہ پیر کی رات ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس میں نواز شریف، شہباز شریف ، اشتراوصاف علی ایڈووکیٹ، خواجہ حارث ایڈووکیٹ اور اکرم شیخ ایڈووکیٹ شامل ہوئے۔ اجلاس کے بعد اشتر اوصاف علی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف اپنے سابقہ موقف قائم ہیں اور پی سی او کے تحت حلف لینے والوں ججوں جج کو تسلیم نہیں کرتے اس لیے وہ اپنے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف داد رسی کے لیے عدالت سے رجوع نہیں کریں گے۔ اشتر اوصاف علی کے بقول نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو وفاقی حکومت عدالت میں چیلنج کرے گی کیونکہ اس فیصلے سے صرف نواز شریف کو نااہل قرار نہیں دیا گیا بلکہ ایک نئی ریت اور روایت ڈالی گئی ہے جس پر پیپلز پارٹی کو تحفظات ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی اور ناامیدی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف درخواستیں ہائیکورٹ کے سامنے قابل سماعت نہیں تھیں۔ ادھر وزیراعلیْ پنجاب شہباز شریف نے بعد ازاں ایک نجی ٹی وی چینل سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کٹ جائیں گے لیکن ان ججوں کو جج نہیں مانیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ’عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے لیے حکومت کیا ہر چیز بھی چلی جائے تو یہ بڑی قربانی نہیں ہے‘۔ یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سید خرم شاہ اور نور الہی کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف دائر کی گئی دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔ عدالت نے پیر کے روز تین گھنٹے کی کارروائی کے بعد ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا اور سوموار ہی کی شام کو اس فیصلہ کا اعلان کر دیا۔عدالت کے فیصلہ سناتے ہی مسلم لیگ کے حامی وکلاء نے کمرہ عدالت میں ’پی سی او جج نامنظور‘ اور ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔یاد رہے کہ ان مقدمات میں نواز شریف اور شہباز شریف احتجاجاً پیش نہیں ہو رہے تھے۔ خیال رہے کہ شہباز شریف پنجاب کے علاقہ بھکر کی صوبائی اسمبلی کی نشست اڑتالیس سے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد پنجاب کے وزیر اعلٰی چنے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نوازشریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو تئیس سے ضمنی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نور الہیْ کے وکیل ڈاکٹر قاضی محی الدین نے دلائل میں کہا کہ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے دوران بھی مسترد کیے گئے تھے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ جب عام انتخابات میں کوئی امیدوار نااہل ہوجاتا ہے تو کس طرح اس امیدوار کے کاغذات ضمنی انتخابات میں اہل ہوسکتا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ نواز شریف عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور اس لیے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔کارروائی کے دوران سید خرم شاہ نے وکیل رضا کاظم نے دلائل میں کہا کہ شہباز شریف کے خلاف الیکشن ٹربیونل نے اختلافی فیصلہ دیا ہے اس لیے شہباز شریف کے انتخاب لڑنے کی اہلیت کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔ سماعت کے دوران مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے صدر خواجہ محمود نے بنچ کے رکن جسٹس شبر رضا رضوی پر اعتراض کیا جس پر بنچ کے سربراہ جسٹس عبدالشکور پراچہ نے انہیں ہائی کورٹ آفس میں باضابطہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی جس پر فورم کے صدر نے اس معاملہ پر درخواست دائر کردی۔ فورم کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہاگیا کہ جسٹس شبر رضا رضوی مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کے ایسوسی ایٹ رہے ہیں اور انہیں اس وقت ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا گیا تھا جب نوازشریف وزیراعظم اور شہبازشریف وزیراعلیْ پنجاب تھے۔ | اسی بارے میں جج پر اعتراض، بینچ ٹوٹ گیا21 June, 2008 | پاکستان جج پر اعتراض، بنچ ٹوٹ گیا21 June, 2008 | پاکستان ’پی پی، نون لیگ میں ہم آہنگی نہیں‘20 June, 2008 | پاکستان اہلیت: فریق بننےکی درخواستیں رد20 June, 2008 | پاکستان ’جج بحال ہونگے، وقت معلوم نہیں‘20 June, 2008 | پاکستان اہلیت کیس:یکطرفہ کارروائی کا فیصلہ19 June, 2008 | پاکستان شریف برادر: اہلیت کیس کا فیصلہ18 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا05 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||