BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 June, 2008, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نا اہلی کے خلاف اپیل ہوسکتی ہے‘
نواز شریف اور آصف زرداری
نا اہلی کے فیصلے کے خلاف میاں نواز شریف حکمت عملی اپنی جماعت کی مشاورت سے ہی طے کریں گے۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایک وکیل اشتر اوصاف نے عندیہ دیا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں برطرف کردہ جج دو چار روز میں بحال ہوجائیں گے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے بجٹ کے فوری بعد ججوں کی بحالی کی یقین دہانی کروائی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ان کی بات اس پر شبہ کیا جائے۔

جب انہیں یاد دلایا گیا کہ آصف علی زرداری نے تو بیان دیا ہے کہ لوگ روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہے ہیں اور ججوں کی بحالی ان کی ترجیح نہیں تو اشتر اوصاف نے کہا کہ یہ بات بالکل بجا ہے کہ لوگ روٹی، کپڑا اور مکان مانگ رہے ہیں، لیکن یہ سب کچھ ایک دن یا چھ ماہ میں بھی انہیں دیا جاسکتا جبکہ ججوں کو ایک ہی دن میں بحال کیا جاسکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب انہوں نےکہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد میاں نواز شریف ان کے سامنے اپیل میں پیش ہوسکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے خلاف میاں نواز شریف حکمت عملی اپنی جماعت کی مشاورت سے ہی طے کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابی معاملات میں امیدوار خود عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور ان کے تجویز یا تائید کنندہ ہوتے ہیں وہ پیش ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر میاں صاحب خود سپریم کورٹ نہیں جاتے تو ان کے تجویز یا تائید کنندہ اپیل کرسکتے ہیں۔

اشتر اوصاف نے کہا کہ بنیادی حقوق کے مقدمات میں کبھی یکطرفہ طور پر فیصلہ نہیں سنایا جاتا اور اس مقدمے میں تو تین گھنٹے کی مختصر سماعت کے بعد ہی فیصلہ دے گیا گیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ میاں نواز شریف کا کوئی نمائندہ عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوا تو انہوں نے کہا قطع نظر اس کے کہ کوئی پیش نہیں ہوا، بنیادی حقوق کے معاملات میں عدالتوں کو تمام پہلوؤں کو دیکھنا پڑتا ہے۔

’میاں نواز شریف کو معافی مل چکی ہے، وہ انتخاب لڑنے کے اہل ہیں اور ان کے خلاف سرکار نے جو بھی اعتراضات اٹھائے ہیں وہ قابل پذیرائی نہیں ہیں‘۔

ان کے مطابق جب سرکاری وکیل نے خود تسلیم کیا ہے کہ میاں صاحب کو معافی مل چکی ہے تو پھر ان کی نااہلیت کا سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد