شہباز نے عدالت سے رجوع کر لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس مقصد کے لیے شہباز شریف نے انسداد دہشت گردی کے خصوصی عدالت کے روبرو بریت کی ایک درخواست دائر کی ہے جس پر عدالت نے بائیس جنوری کے لیے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ شہباز شریف کے وزارتِ اعٰلی کے دور میں ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں پانچ نوجوانوں کی ہلاکت کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے دائر کردہ بریت کی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کو دانستہ طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے اور اس مقدمہ میں ملزموں کی فہرست میں شہباز شریف کا نام تیرہویں نمبر پر ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کو سیاسی عناد کی بنیاد پر مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے اور وقوعہ کے تین برس بعد مقدمہ درج ہوا ہے جس میں شہباز شریف کے خلاف کوئی ٹھوس شہادت نہیں ہے۔ درخواست میں شہباز شریف کو بری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت نے بریت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے طرفین کے وکلا کی بحث کے لیے بائیس جنوری کی تاریخ مقرر کردی۔ عدالت نے اس مقدمے میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کر رکھی ہے۔ قبل ازیں شہباز شریف سنیچر کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم ان کی وکیل امتیاز کیفی نے عدالت میں حاضری سے استثنیْ کے لیے درخواست دی اور عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کمر میں تکلیف کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔ مدعی کے وکیل آفتاب باجوہ نے درخواست کی مخالفت کی۔ عدالت نے شہباز شریف کو ایک مرتبہ کے لیے عدالت میں حاضری سے استثنیْ دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف پر یہ مقدمہ سنہ انیس سو اٹھانوے میں ان کی وزارتِ اعٰلی کے دور میں ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں پانچ نوجوانوں کی ہلاکت کے قریباً تین برس بعد سنہ دو ہزار ایک میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر درج ہوا تھا اور اس کے مدعی ہلاک شدگان میں سے ایک کے والد سعید الدین ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران سنہ دو ہزار تین میں عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے پر شہباز شریف کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ تاہم شہباز شریف کے بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا۔ پچیس نومبر کو پاکستان آمد کے بعد مدعی سعید الدین نے عدالت میں دوبارہ درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اب جبکہ شہباز شریف پاکستان میں ہیں تو پولیس انہیں کیوں گرفتار نہیں کر رہی۔ اس پر عدالت نے پولیس حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔ وطن واپسی کے بعد شہباز شریف نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر خود کو عدالت کے حوالے کر دیا تھا۔ |
اسی بارے میں ’ہنگامے زرداری اور شہباز نے کرائے‘02 January, 2008 | پاکستان شہباز شریف: ضمانت کی توثیق08 December, 2007 | پاکستان شہباز شریف کی ضمانت منظور06 December, 2007 | پاکستان نااہلیت کا فیصلہ سیاسی ہے: شہباز01 December, 2007 | پاکستان شہباز کی گرفتاری کا عدالتی حکم07 September, 2007 | پاکستان شہباز کی گرفتاری کی درخواست06 September, 2007 | پاکستان کبھی انکار نہیں کیا: شہباز شریف22 August, 2007 | پاکستان شہباز شریف نواز لیگ کے صدر 02 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||