شہباز شریف: ضمانت کی توثیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کیس میں سابق وزیرِاعلٰی پنجاب اور مسلم لیگ(ن) کے سربراہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت قبل ازگرفتاری کی توثیق کردی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے میں شہباز شریف کو مفرور قرار دے کے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ شہباز شریف نے جمعرات کو عدالت کے سامنے پیش ہو کر خود کو اس کے حوالے کر دیا تھا۔ عدالت نے مقدمہ پر باضابطہ کارروائی شروع کرتے ہوئے شہباز شریف کو مقدمہ کی نقول فراہم کیں اور ہدایت کی کہ شہباز شریف پر اٹھارہ دسمبر کو فرد جرم عائد کی جائے۔
وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے عدالت میں پیش ہونے کی کوشش کی لیکن ان کو دانستہ طور عدالت میں آنے سے روکا گئے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو دانستہ طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے اور اس مقدمہ میں ملزموں کی فہرست میں شہباز شریف کا نام تیرہویں نمبر پر ہے۔ استغاثہ کے وکیل آفتاب باجوہ نے ضمانت کی مخالفت کی اور کہا کہ شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان آنے کے فوری بعد عدالت میں پیش ہونگے لیکن یہ پچیس نومبر سے پاکستان میں ہیں اور دس روز کے بعد عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف پاکستان آنے کے بعد ریٹرننگ آفیسر کے سامنے پیش ہونے کے علاوہ پریس کانفرنس سے خطاب کیے اور دیگر افراد سے ملاقاتیں کیں لیکن عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ شہباز شریف تاخیر سے عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں اس لیے ضمانت کا استحقاق نہیں رکھتے۔ تاہم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج شبیر حسین چھٹہ شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی توثیق کردی۔ عدالت نے شہباز شریف کو پابند کیا کہ وہ مقدمہ کی سماعت کے موقع پرعدالت میں پیش ہوں۔ شہباز شریف نے عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس مقدمہ میں بریت کے لیے آئندہ سماعت پر درخواست دائر کریں گے۔ شہباز شریف پر یہ مقدمہ سنہ 1998 میں ان کی وزارتِ اعٰلی کے دور میں ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں پانچ نوجوانوں کی ہلاکت کے قریباً تین برس بعد سنہ دو ہزار ایک میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر درج ہوا تھا اور اس کے مدعی ہلاک شدگان میں سے ایک کے والد سعید الدین ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران سنہ دو ہزار تین میں عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے پر شہباز شریف کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔ تاہم شہباز شریف کے بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا۔ پچیس نومبر کو پاکستان آمد کے بعد مدعی سعید الدین نے عدالت میں دوبارہ درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اب جبکہ شہباز شریف پاکستان میں ہیں تو پولیس انہیں کیوں گرفتار نہیں کر رہی۔ اس پر عدالت نے پولیس حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔ | اسی بارے میں شریف برادران پر مقدمات کی حیثیت23 August, 2007 | پاکستان شہباز شریف کی ضمانت منظور06 December, 2007 | پاکستان نااہلیت کا فیصلہ سیاسی ہے: شہباز01 December, 2007 | پاکستان شہباز کی گرفتاری کا عدالتی حکم07 September, 2007 | پاکستان کبھی انکار نہیں کیا: شہباز شریف22 August, 2007 | پاکستان شہباز شریف: دو طرفہ تیاریاں مکمل 10 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||