صدر مشرف کوئی مسئلہ نہیں: باؤچر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اب تک کے اپنے واضح ترین بیان میں کہا ہے کہ وہ جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو صدر تسلیم کرتا ہے اور ان سے اس حیثیت میں تعلق بدستور استوار رکھا جائےگا۔ یہ بات نائب وزیر خارجہ رچررڈ باؤچر نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کی۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ امریکہ کی صدر کے انتخاب کے بارے میں قانونی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا پالیسی ہے تو رچرڈ باؤچر نے کہا کہ وہ صدر ہیں اور نئے حالات میں امریکہ ان سے اسی حیثیت میں معاملات نمٹاتا رہے گا۔ ’ہم تمام رہنماؤں سے رابطے رکھتے ہیں اور اب حکومت ذمہ دار ہے۔‘ اس بیان سے امریکہ کی صدر مشرف کے بارے میں پالیسی پر ابہام ختم ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی قیادت کے ملے جلے بیانات سامنے آتے رہے ہیں اور بعض اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ کے اس دورے کا مقصد ہی حکمراں اتحاد کی توجہ صدر سے ہٹا کر دیگر مسائل پر مبذول کروانا ہے۔ رچرڈ باؤچر کا کہنا تھا کہ صدر کوئی ’ایشو‘ نہیں ہیں۔ ’یہ پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے زیادہ اہم اور سنگین مسائل توجہ کے طلبگار ہیں جیسے کہ منہگائی، توانائی کی کمی وغیرہ‘۔ امریکی اہلکار نے بدھ کی صبح صدر پرویز مشرف سے ملاقات کی جس میں صدر نے امریکہ سے کثیرالجہتی تعلقات کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک سوال کے جواب میں رچرڈ باؤچر نے اعتراف کیا کہ ماضی میں صرف ایک شخصیت سے ڈیل کرنے کی نسبت اب انہیں صدر، وزیر اعظم اور فوج سے الگ الگ معاملات نمٹانے پڑتے ہیں۔ ’جمہوریت یقیناً فیصلے کرنے کا آسان طریقہ نہیں لیکن ہماری سوچ کے مطابق یہ بہترین نظام ہے۔‘
انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ اس غلط تاثر کو دور کرنے کے لیئے لکھیں کہ امریکہ آمروں کی نہیں جمہوریت کی حمایت کرتا ہے۔ ہماری ترجیح پاکستان اور اس کے عوام ہیں۔ صدر کے بارے میں بار بار سوالات سے اکتا کر رچرڈ باؤچر نے کہا کہ ان سے نئی حکومت، وزیر اعظم اور ان کے مشیر کے بارے میں اگر صحافی دریافت کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے لوگوں میں کافی خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا اور لوگ محفوظ ماحول چاہتے تھے۔ ’یہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ ہمیں کس قسم کے مسئلے کا سامنا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی حکومتی پالیسی کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں سے مذاکرات پر انہیں تشویش تھی تاہم ’ہم قبائل کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تشدد کے حامی بیت اللہ محسود جیسے شدت پسندوں کو رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ’ہم شدت پسندوں کی رہائی کے حق میں نہیں کہ وہ دوبارہ جا کر کارروائیاں کریں۔‘ نواز شریف سے ملاقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی سیاستدان سے بات چیت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تاہم انہوں نے ماضی میں پھسنے رہنے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے تازہ تین روزہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی پیرس میں گزشتہ دنوں ملاقات میں طے پایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اہلکاروں سے ملاقاتوں میں دہشت گردی کے علاوہ مہنگائی اور توانائی جیسے مسائل کے حل میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ | اسی بارے میں گیلانی اور رچرڈ باؤچر کی ملاقات30 June, 2008 | پاکستان باؤچر کی نواز شریف سے ملاقات01 July, 2008 | پاکستان مہمند ایجنسی حملہ: گیٹس کا اظہارِ افسوس02 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||