BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 August, 2008, 00:07 GMT 05:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چار اگست کومسلم لیگ کا اجلاس

نواز شریف کہا چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے دو ٹوک بات کا وقت آ گیا ہے
مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے اپنی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا ہے جو سوموار چار اگست کو لاہور میں ہوگا۔

مسلم لیگ نون کے رہنما صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور حکومت کی چار ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے سمیت دیگر معاملات پر غور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس میں اتفاق رائے سے ایک روڈ میپ ترتیب دیا جائے گاجبکہ اس اجلاس کے بعد نواز شریف آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے اور ان کو روڈ میپ کے بارے میں بتائیں گے۔

ایک سوال پر صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان جو ملاقات ہوگی وہ آخری ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔

ان کے بقول اجلاس کے بعد جو روڈ میپ تیار کیا جائے گا وہ حتمی ہوگا اور اس بات کا انحصار آصف زرداری پر ہوگا کہ وہ اتحاد کو قائم کررکھتے ہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ نواز شریف نے چند روز قبل لندن سے واپسی پر اپنی جماعت کی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا کہ اس اجلاس کے بعد وہ اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے بات کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے کیوں عوام کے ساتھ کیے وعدے پورے نہیں کیے؟

نواز شریف نے پاکستان واپسی پر یہ کہا تھا کہ وہ اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے دوٹوک بات کریں گے اور حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔


نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان آخری ملاقات جون میں ہوئی تھی جس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی تھی اور اس ملاقات کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی اور صدر کے مواخذے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں ہم آہنگی نہیں ہے اور اس کے لیے بات چیت کے مزید دور ہوں گے۔

مصبرین کی رائے میں مسلم لیگ نون کا چار اگست کو ہونے والا اجلاس اہم نوعیت کا ہے اور اس اجلاس کے فیصلوں سے حکمران اتحاد کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔

واضح رہے کہ وکلا نے بھی ججوں کی بحالی کے لیے حکومت چودہ اگست کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اور اعلان کیا کہ مقررہ تاریخ تک ججوں بحال نہ ہونے پر پندرہ اگست کو آئندہ کے لائحہ عمل کافیصلہ کیا کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد