BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 June, 2008, 06:38 GMT 11:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حلقہ 123 میں انتخابات ملتوی

سپریم کورٹ
نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے بینچ نے نا اہل قرار دیا تھا
پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کےحلقہ این اے 123 میں ضمنی انتخابات روکنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے جن میں پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا ہے اُس کے خلاف پٹیشنوں کی سماعت تیس جون سے شروع ہوگی۔

سپریم کورٹ کے ان احکامات کے بعد الیکشن کمشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے ایک سو تئیس میں انتخابی عمل روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

بدھ کے روز ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس موسی کے لغاری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی تو حلقہ این اے ایک سو تیئس سے میاں نواز شریف کے تجویز کنندہ مہر ظفر اقبال کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے پورا پاکستان متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خرم شاہ جس کی درخواست پر عدالت نے میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے وہ نہ تو اس حلقے کا ووٹر ہے اور نہ ہی اس حلقے سے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ خود اُس کے لیے ہزیمت کا باعث بن رہا ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس موسی کے لغاری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص انتخابات میں حصہ لے رہا ہے وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہورہا، جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ جب عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے گریجویشن کی شرط ختم ہو رہی تھی تو سینیٹر کامران مرتضیٰ تو انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرکے ریٹرنگ افسر کا فیصلہ برقرار رکھا جائے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ اداروں کو کسی شخص کے ماتحت ہونے کی بجائے آزاد ہونا چاہیے۔

نواز شریف کے تائید کندہ شکیل بیگ کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ پولیٹیکل جسٹس بھی بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے پورا ملک متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک میں مارشل لاء لگتا ہے تو حکومت سمیت ہر چیز اپنی اصل رنگت کھو دیتی ہے اور سپریم کورٹ کے جج اس پر کوئی آواز نہیں اُٹھاتے۔ اے کے ڈوگر نے کہا اگر مستقبل میں ملک میں مارشل لاء لگے تو اُن کے ساتھ ججوں کو بھی گرفتار کر لیا جائے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت انتخابات میں حصہ لینا ہر شخص کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اُمیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور بھی ہوجاتے ہیں تو اُن کے خلاف آئینی درخواستیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی پی سی او ججز نہیں ہیں اور تمام ججز آئین کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اس دوران بینچ کے سربراہ نے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ ان ججوں کو پی سی او ججز کہنے کے عادی ہو چُکے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کے کہ جب تک نواز شریف کی اہلیت کے بارے میں دائر درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوجاتا اُس وقت تک اس حلقے میں ضمنی انتخابات روک دئیے جائیں۔

اس سے قبل وفاقی حکومت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف آج سپریم کورٹ میں دو درخواستیں دائر کیں۔

یہ درخواستیں بدھ کو ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ عبد الرحمن نے دائر کی جن میں سے ایک میں ضمنی انتخابات ملتوی کرنے جبکہ دوسری میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے یہ درخواستیں سماعت کے لیے منظورکر لی تھی اورجسٹس موسیٰ کےلغاری، جسٹس زوار جعفری اور جسٹس فرخ محمود پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا جس نے اس کیس کی سماعت کی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف کی اہلیت سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ متعلقہ فورم نہیں اور اس کیس کو الیکشن ٹریبونل میں بھیجنا چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ پیر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سید خرم شاہ اور نور الہی کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف دائر کی گئی دو علیحدہ علیحدہ درخواستوں پر کیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس ایم بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی پر مشتمل تھا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے بعد اکرم شیخ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کبھی بھی ان پی سی او ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ چھبیس جون کو پاکستان میں مختلف حلقوں میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں
جج پر اعتراض، بنچ ٹوٹ گیا
21 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد