BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 June, 2008, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز بھکر کی سیٹ رکھ سکتے ہیں

شہباز شریف
شہباز شریف راولپنڈی سے بھی بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں
پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف پنجاب اسمبلی کی ایک دوسری سیٹ سے بلامقابلہ کامیاب ہونے کے باوجود پی پی اڑتالیس بھکر کی نشست برقرار رکھ سکتے ہیں۔

شہباز شریف بھکر کی نشست سے بلامقابلہ کامیاب ہونے کے بعد اسی نشست کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔ چار روز پہلے راولپنڈی کے حلقہ پی پی دس سے شہباز شریف کے مخالف تمام امیدوار ان کے حق میں دستبردار ہوگئے اور انہیں اس حلقے سے بھی بلامقابلہ کامیاب قرار دیدیا گیا۔

مسلم لیگ قاف کی خاتون رکن بشری گردیزی نے پنجاب اسمبلی میں نکتہ اعتراض اٹھایا اور آئین کے آرٹیکل دوسوتیس (چار) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی سے کامیابی کے نوٹیفیکشن کے بعد ان کی بھکر والی نشست از خود خالی قرار پائی جا چکی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ شہباز شریف اب پی پی دس سے حلف اٹھائیں اور دوبارہ وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے عمل سے گزریں۔

منگل کو پنجاب اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو بھکر سے مسلم لیگ نون کے رکن سعید اکبر نوانی نےنکتہ اعتراض پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر ابہام دورکرنے کے لیے رولنگ جاری کریں۔ان کی اس تجویز پر حکومتی اراکین اسمبلی نے ڈیسک بجا کر اس کی حمایت کی۔

ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد خان نے اذان کے وقفے کے فوراً بعد کہا کہ وہ خدا کا نام لیے جانے کا انتظار کر رہے تھے اور اب وہ رولنگ دیتے ہیں چونکہ کسی شخص کے ایک سے زائد نشستوں پر امیدوار ہونے پر پابندی نہیں ہے اور شہباز شریف نے بیک وقت ایک سے زائد نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے آئین شہباز شریف کواجازت دیتا ہے کہ وہ پی پی اڑتالیس بھکر سے اپنی نشست برقرار رکھ سکیں۔

منگل کو تمام دن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے حکومتی اراکین اسمبلی نکتہ اعتراض پر بات کرتے رہے اور بجٹ پر بحث نہیں ہوسکی۔

اراکین اسمبلی نے ہائی کورٹ کے ججوں اور صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ اراکین نے نواز شریف کو ضمنی انتخابات کے لیے نااہل قرار دینے کے فیصلے کو ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ ایسا ایوان صدر کے کہنے پر ہوا ہے۔

بعد میں مال روڈ پر ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مسلم لیگ نون کے اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد