BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 June, 2008, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خاندانی کاروبار سے کاروبارِ سیاست تک

خاندانی کاروبار سے کاروبارِ سیاست تک
ضمنی انتخابات کے لیے شہباز کے کاغذات نہ صرف منظور ہوئے بلکہ وہ بلامقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن بنے
مسلم لیگ نون کےصدر شہباز شریف آٹھ سال سات ماہ اور چھبیس دن کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے اسی عہدے پر فائز ہوئے ہیں جہاں سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو انہیں نہ صرف برطرف کیا گیا بلکہ فوج نے انہیں گرفتار بھی کر لیا تھا۔

شہباز شریف پنجاب کی ایک بڑی سیاسی شخصیت ہیں لیکن اپنے بھائی کی وجہ سے انہیں پارٹی میں ہمشیہ دوسرے نمبر کی پوزیشن رہی۔

سنہ انیس سو پچاس میں لاہور میں پیدا ہونے والے شہباز شریف نے اسی شہر سے گریجویشن کی اور اپنے والد میاں شریف کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔ ان کے بڑے بھائی نواز شریف نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو وہ ان کے سب سے قریبی ساتھی ٹھہرے۔

سنہ انیس سو اٹھاسی میں جب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلی بنے تو شہباز شریف لاہور چمبر آف کامرس کے صدر منتخب ہوگئے۔

نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ پہلی شریف حکومت کی برطرفی کے بعد نواز شریف قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے تو چھوٹے بھائی شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالا۔ نواز شریف دوسری بار دو تہائی اکثریت لیکر وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف نے پنجاب کی وزارت اعلی سنبھالی۔

یہ وہ دور تھا جب نواز شریف شادیوں میں کھانے پر پابندی اور ہندوستان سے بہتر تعلقات اور ایٹمی دھماکوں جیسے فیصلے کررہے تھے اور شہباز شریف پنجاب میں خود کو ایک اچھا منتظم ثابت کرنے میں کوشاں تھے۔

شہباز شریف اور نواز شریف
نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھالی
بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کو جب اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم میاں نوازشریف کا تختہ الٹا توپنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کو فوج نے گرفتار کر لیا۔ بعد میں وہ جلاوطن کردیئے گئے اور سنہ دوہزار دو کے انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔

شہباز شریف کی ازدواجی زندگی بھی پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث رہی اور خاندانی شادی کے علاوہ عالیہ ہنی اور تہمینہ درانی سے بیاہ کے قصے اخبارات کی زینت بنتے رہے۔ اپنے والد میاں شریف کے انتہائی تابعدار سمجھے جانے والے شہباز شریف کی یہ ایسے فیصلے تھے جنہیں میڈیا میں ان کے والد کے احکامات کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کیاگیا۔

ان کی جلاوطنی کے دوران ان پر پانچ نوجوانوں کے جعلی مقابلے میں ہلاکت کے احکامات جاری کرنے کا مقدمہ درج ہوا جو ان کی واپسی کے بعد ختم ہوگیا۔

جلا وطنی کے آٹھ برس کےدوران میڈیا میں ان کے اور صدر مشرف کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی خبریں بھی آئیں اور شہباز شریف نے ایک بار پاکستان لوٹنے کی کوشش بھی کی لیکن انہیں زبردستی واپس بھجوادیاگیا۔

نواز شریف نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ان کی واپسی کی اس کوشش میں نواز شریف کی رضامندی شامل نہیں تھی۔

اٹھارہ فرروی کے عام انتخابات میں جب نواز شریف کو وطن واپسی کی اجازت ملی تو شہباز شریف بھی واپس آسکے لیکن اٹھارہ فروری دوہزار آٹھ کے انتخابات میں ان کے کاغذات مسترد کردیئے گئے۔ لیکن ان انتخابات میں ان کی پارٹی ملک کی دوسری بڑی اور صوبے کی سب سے بڑی اکثریتی جماعت بن کر ابھری، اس کے بعد ضمنی انتخابات کے لیے ان کے کاغذات نہ صرف منظور ہوئے بلکہ اپنے ساتھیوں کی کوششوں سے وہ بلامقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن بن گئے جہاں دوست محمد کھوسہ پہلے ہی ان کے انتظار میں مستعفی ہونے کے لیے تیار بیٹھےتھے۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ شہباز شریف کے پورے کیرئر میں تمام سیاسی گلیمر ان کے بڑے بھائی نواز شریف کے ساتھ وابستہ رہا لیکن بہرحال یہ نواز شریف شریف کی خوش قسمتی ہے کہ ان کا نائب شہباز شریف جیسا ایک ایسا منتظم ہے جس پر وہ اپنے بعد سب سے زیادہ بھروسہ کرسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد