BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 July, 2008, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکمران اتحاد میں اختلافات کی حقیقت

نواز شریف
مسلم لیگ نواز کی جانب سے شکوے شکایت پر مبنی بیان کے بعد ملک بھر میں چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں
میاں نواز شریف نے جمعرات کے روز لندن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے معاملے پر ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی تیل یا گیس کے نرخ بڑھانے سے پہلے ان سے مشورہ کیا جاتا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی سے اس نوعیت کا شکوہ کیا ہو۔ اس کے علاوہ بھی معزول ججوں کی بحالی سے لے کر صدر مشرف کے مواخذے تک وہ تمام معاملات جن پر ان دونوں جماعتوں میں اختلافات ہیں کسی مثبت پیشرفت کے منتظر ہیں۔

شاید اسی لیے مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس طرح کے ہر بیان کے بعد ملک بھر میں چہ میگوئیاں ہونے لگتی ہیں کہ کیا حکومتی اتحاد ٹوٹنے والا ہے اور کیا ایسی صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی اپنی حکومت قائم رکھ سکے گی؟ اس سوال کا جواب ملکی سیاست سے شاید کہیں زیادہ اس سیاست کے دو بڑے کرداروں میں چھپا ہے جنہیں اٹھارہ فروری کے انتخابات میں عوام نے اپنی قیادت کے لیے چنا۔

آخر ان کے دماغ میں ہے کیا؟

وکلاء تحریک کے لانگ مارچ سے چند روز پہلے لاہور کے وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ کسی بھی صورت پارلیمنٹ کے گھیراؤ کے حق میں نہیں۔ ان کا یہ موقف ان کے بھائی اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف سے قدرے مختلف نظر آتا تھا جو ہر قیمت پر عدلیہ کی بحالی کی بات کرتے ہیں۔

سسی بھٹو
بھٹو خاندان کا بینظیر مخالف دھڑا کئی سال بعد اس امید فعال ہونے کی کوشش میں ہے کہ شاید آصف زرداری ایک نسبتاً آسان ہدف ثابت ہوں
بعد میں جب میاں شہباز شریف کے مشیران سے تفصیلی گفتگو ہوئی تو انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلٰی کی سیاسی سوجھ بوجھ کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا:

میاں شہباز شریف کے خیال میں نو برس پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے دور رہنے کے بعد ان کے لیے اپنے صوبے کو پہچاننا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ ضلعی حکومتوں کے نظام اور گجرات کے چودھریوں کی مبینہ اقربا پروری نے پنجابی بیوروکریسی کا تیا پانچا کر ڈالا ہے۔ میاں شہباز شریف کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ روز اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں لیکن اس رفتار سے بھی ان کے خیال میں انہیں پنجاب کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لینے کے لیے کم از کم دو سال چاہئیں۔

اس دوران اگر وفاقی حکومت ٹوٹ جاتی ہے تو اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے تو جائے گا ہی لیکن کوئی ضروری نہیں کہ وہ مسلم لیگ نواز کے ہاتھ ہی آئے۔ میاں شہباز شریف کے خیال میں ایسی صورت میں عین ممکن ہے کہ فوجی قیادت پھر سیاسی مہم جوئی کی لالچ میں آ جائے۔

لیکن اگر اس سوچ پر مسلم لیگ نواز متفق ہوتی تو حالیہ ضمنی انتخابات میں جنوبی پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالف آزاد امیدواروں کی حمایت نہ کرتی۔ ضمنی انتخابات سے پہلے دونوں جماعتیں یہ طے کر چکی تھیں کے وہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں ایک دوسرے کی جیتی ہوئی سیٹیں برقرار رکھیں گی۔ لیکن ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے کردار نے دونوں حلیفوں کے بیچ رفتہ رفتہ بڑھتی بداعتمادی کو مزید ہوا دی ہے۔

بدگمانی اور بداعتمادی کی اس فضا کو صاف کرنے کی بجائے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی شخصی سیاست نے اسے اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

آصف علی زرداری
آصف زرداری آئینی اصلاحات سے کہیں زیادہ پاکستان سے باہر مختلف ممالک کی سیاسی جماعتوں سے اپنی جماعت کے رابطے بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں
میاں نواز شریف کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے ذہن پر بینظیر بھٹو کی شخصیت اور خاص طور پر ان کی موت نے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان کے کچھ قریبی ساتھی تو یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ جس طرح بینظیر بھٹو کی ہلاکت پر پوری دنیا نے ان کا سوگ منایا، عوامی مقبولیت کے لحاظ سے میاں نواز شریف انہیں اپنا رول ماڈل تصور کرنے لگے ہیں۔ ان مسلم لیگیوں کے مطابق اب میاں نواز شریف کو کرسی صدارت یا وزارت اعظمٰی سے کہیں بڑھ کر عوام میں مقبولیت کی خواہش ہے۔

اپنے بڑے بھائی کی یہ سوچ میاں شہباز شریف اور کئی دیگر پارٹی رہنماؤں کے لیے پریشانی کا باعث اس لیے بنی ہوئی ہے کہ اس سوچ میں سیاسی سودے بازی کی جگہ محدود ہو جاتی ہے جو شاید پاکستان جیسے ملک میں اقتدار میں رہنے کے لیے ضروری ہے۔ شاید اسی لیے صدر مشرف کے مستقبل کے معاملے پر مسلم لیگ کی قیادت میں ایسی ہم آہنگی نظر نہیں آتی جیسی کے دوسرے تمام معاملات میں واضح ہے۔

اگر شہباز شریف کا بس چلے تو وہ کم از کم دو سال کے لیے ہر طرح کی محاذ آرائی سے دور صرف اور صرف پنجاب پر اپنی گرفت مضبوط کرنے پر توجہ دیں۔ وکلاء کی لانگ مارچ کا انجام دیکھ کر لگتا یوں ہے کہ فی الحال میاں شہباز شریف اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ شاید اسی لیے مسلم لیگ نواز نے راولپنڈی کے علاوہ صوبہ بھر میں کہیں بھی اپنی مقامی قیادت کو لانگ مارچ کی حمایت میں متحرک ہونے کا نہیں کہا۔ لیکن میاں شہباز شریف سمیت کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کل کو اگر میاں نواز شریف کو وفاق یا پنجاب میں بھی حکومت چھوڑنے سے عوام میں مزید مقبولیت ملتی ہو تو ان کا فیصلہ کیا ہو گا۔

کچھ ایسا ہی سوالیہ نشان آصف علی زرداری کی سیاست پر بھی لگا ہے۔

حادثاتی طور پر ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر بننے کے بعد سے لے کر اب تک آصف علی زرداری ایک چومکھی لڑائی میں پھنسے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو انہیں صدر مشرف اور ان کی حمایتی فوج کا سامنا ہے تو دوسری طرف اپنی سب سے اہم اتحادی جماعت کے مشرف مخالف موقف کا۔ اس کے ساتھ ہی انہیں اپنی جماعت کے اندر سے اٹھنے والی سازشوں کو بھی سنبھالنا ہے اور وفاق کی منہ زور بیوروکریسی کو بھی۔

شہباز شریف
شہباز شریف دو سال تک ہر طرح کی محاذ آرائی سے دور رہ کر پنجاب پر اپنی گرفت مضبوط کرنے پر توجہ دینے کے خواہاں ہیں
پاکستان کی فوجی قیادت اور امریکہ میں بش انتظامیہ ابھی تک صدر مشرف کو خیرباد کہنے پر راضی نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے جب تک صدر مشرف اپنی جگہ قائم ہیں، ججوں کی بحالی ناممکن نظر آتی ہے۔ ساتھ ہی مسلم لیگ نواز پیپلز پارٹی کی مقبولیت کے گراف کو نیچے کھینچنے کا کوئی موقع چھوڑنے کو تیار نہیں جیسا کہ ضمنی انتخابات سے واضح ہے۔ دوسری جانب غنویٰ بھٹو کی قیادت میں اب تک ناکام سیاست کرنے والا بھٹو خاندان کا بینظیر مخالف دھڑا کئی سال بعد پھر سے اس امید پر فعال ہونے کی کوشش میں ہے کہ شاید آصف زرداری ایک نسبتاً آسان ہدف ثابت ہوں جبکہ وفاقی بیوروکریسی، جو ہمیشہ آمرانہ حکومتوں میں خوش رہتی ہے، مخلوط حکومت کے خلاف افواہ بازی کی ایک بھرپور مہم چلانے میں مصروف ہے۔

بیوروکریسی کی مدد سے پھیلائی جانے والی افواہوں میں آجکل سب سے بڑی افواہ یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اپنے تخمینوں کے مطابق موجودہ حکومت تین سے چار ماہ کی مہمان ہے۔

ایسی صورتحال میں بظاہر تو آصف علی زرداری کی تمام تر توجہ اس آئینی اصلاحاتی پیکیج پر ہونی چاہیے تھی جس کے بل بوتے پر وہ نظام کی تبدیلی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن آصف زرداری نے اب تک آئینی اصلاحات سے کہیں زیادہ پاکستان سے باہر مختلف ممالک کی سیاسی جماعتوں سے اپنی جماعت کے رابطے بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وہ واضح طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کو دنیا بھر میں ایک ایسی جماعت کے طور پر منوانا چاہتے ہیں جو پاکستان میں جمہوریت، آزادی اور جدیدیت کی واحد ضمانت سمجھی جائے۔

اسی لیے انہوں نے اپنی تمام تر مشکلات و مصروفیات کے باوجود نہ صرف سوشلسٹ انٹرنیشنل کا اجلاس اسلام آباد میں کرایا بلکہ پھر ایتھنز جا کر اس کے نائب صدر بھی منتخب ہوئے۔ کچھ مبصرین کی رائے میں آصف زرداری کے ان اقدامات میں ایک بین الاقوامی سیاسی انشورنس پالیسی کی تلاش نظر آتی ہے جو زوال کے دور میں ان کی جماعت کی مدد کو آ سکے۔

سوشلسٹ انٹرنیشنل کی ایک سو ساٹھ ممبر سیاسی جماعتوں میں سے ساٹھ جماعتیں اس وقت مختلف ممالک کی حکومتیں چلا رہی ہیں۔ ایسے اداروں سے سیاسی روابط بڑھانا پاکستان پیپلز پارٹی کی اس نئی سوچ کا حصہ ہے جس کے تحت بینظیر بھٹو نے بھی اپنے آخری سال میں غیر ملکی ریاستی طاقتوں سے زیادہ غیر ملکی سیاسی قوتوں سے گٹھ جوڑ پیدا کرنے پر زور دیا تھا۔

لیکن کیا ایسا کرنا واقعی آصف زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے سودمند ثابت ہو سکے گا؟ شاید نہیں، اور ایک سطح پر آصف زرداری اور میاں نواز شریف دونوں جانتے ہیں کہ وہ تخت یا تختہ والی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایک طرف تو عوام ہیں کہ صدر مشرف کے آٹھ سالہ دور کی یاد تک بھلا دینا چاہتے ہیں۔ اور دوسری طرف یہ دونوں سیاسی رہنما جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک واشنگٹن میں بش انتظامیہ موجود ہے، صدر مشرف کے مواخذے کے طرف کوئی بھی قدم نئے خطرات کو جنم دے سکتا ہے جن میں شاید سب سے بڑا خطرہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھرپور امریکی حملوں کا ہے۔

ایسی صورتحال میں آصف زرداری کی چومکھی لڑائی اور میاں نواز شریف کی صدر مخالف خواہشات کے بیچ اگر کوئی باہمی مفاد کا رستہ ہے تو وہ صرف یہ کہ یہ دونوں رہنما سب کچھ بھلا کر صرف اور صرف حکومتی اور انتظامی امور پر توجہ دیں۔ اگر عوام کا اپنی سیاسی قیادت پر متزلزل اعتماد بحال ہو جاتا ہے تو پھر یہ صدر مشرف کے مواخذے یا معزول ججوں کی بحالی سے کہیں زیادہ بڑی فتح ہو گی۔

افتخارسیاسی گھن چکر
ساٹھ سال سے جاری شخصی سیاست
آصف زرداریفوج پر سرمایہ کاری
’مغرب نےہمیشہ پاکستان فوج پر سرمایہ کاری کی‘
سسی بھٹوایک اور بھٹو کی آمد
شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی کی پاکستان آمد
معاہدوں کی سیاست
صوبہ سرحد میں شدت پسندی کا کیا حل
اختیار فوج کا
دہشت گردوں کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد