ڈوگر کو نہ بلائیں: اعتزاز کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے پیپلز لائرز فورم سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کنونشن میں پی سی او کے حلف یافتہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو نہ بلائیں۔ یہ بات انہوں نے لاہورہائی کورٹ کے کراچی شہداء ہال میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پیپلز لائرز فورم کا کنونشن تقریباً ڈیڑھ ہفتے کے بعد لاہور میں ہو رہا ہے اور مسلم لیگ نون سمیت مختلف سیاسی جماعتیں اور وکلاء تنظیمیں اسے عدلیہ بحالی تحریک ناکام بنانے اور وکیلوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’میری پیپلز لائرز فورم سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ عبدالحمیدڈوگر کو نہ بلائیں کیونکہ انہوں نے ایمرجینسی کے تحت حلف اٹھایا، وہ پی سی او والے جج ہیں اور وکلاء برادری انہیں نہیں مانتی‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز لائرز فورم کا فیصلہ تبدیل تو نہیں کراسکتے لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ عبدالحمید ڈوگر کو بلا کر وہ ایک غلط فیصلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں تو ان کے کانوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے وہ الفاظ گونجتے رہنے چاہیں جن میں انہوں نے افتخار محمد چودھری کو اپنا چیف جسٹس قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ خود ان کے گھر پر پاکستان کا جھنڈا دوبارہ لہرائیں گی جو پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے تحت اتار دیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ججوں کے بحال نہ ہونے کے ذمہ دار نواز شریف اور آصف زرداری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری پارلیمان پر بھی عائد ہوتی ہے اور صدر مشرف تو اس معاملہ میں ان کے بقول ایک مجرم ہیں۔ انہوں نے کہا امریکہ کی وکلاء تنظیمیں، سول سوسائٹی اور جمہوری تنظیمیں تو پاکستان میں ججوں کی بحالی کے حق میں ہیں لیکن امریکی صدر بش اور امریکی حکومت رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں آزاد عدلیہ کے لیے ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں پی سی او کے حلف یافتہ جج شرکت نہیں کرسکیں گے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ نو سے بارہ اکتوبر تک جاری رہنے والی اس کانفرنس کا افتتاح اور صدارت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کریں گے۔ اس کانفرنس میں دنیابھر سے وکیل اور جج بطور مندوب شرکت کر رہے ہیں لیکن پاکستان کے کسی پی سی او کے حلف یافتہ جج کو مدعو نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے عدلیہ بحالی تحریک کو مزید موثر بنانے کے لیے چند تجاویز مرتب کی ہیں جن کی منظوری انیس جولائی کے آل پاکستان نمائندہ وکلاء کنونشن میں حاصل کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس نمائندہ کنونشن کے مقابلے میں پاکستان بار کونسل کے فیصلہ کو نہیں مانا جائے گا۔انہوں نے کہا ’وہ پہلے بھی تحریک کے راستے میں رکاوٹ بنے ہیں لیکن تحریک رواں دواں رہی اور اب بھی رواں دواں رہے گی‘۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے جمعرات کو لاہور میں وکلاء ریلی میں شرکت کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ مشیر داخلہ کے ریلی نہ نکالنے کے مشورے کو مسترد کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی مشیر داخلہ رحمان ملک نے وکلاء برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی ریلی ملتوی کر دیں۔ اعتزاز احسن نے ان کے مشورے کے جواب میں کہا کہ وکیل سمجھتے ہیں کہ ان کی تحریک ان کی زندگی سے زیادہ اہم ہے اس لیے وہ ہر صورت ریلی نکالیں گے۔ اعتزاز احسن کے الفاظ تھے کہ ’جو ہماری ذمہ داری ہے وہ ہم پوری کریں گے آپ اپنی ذمہ داری نبھائیں اگر آپ چاہتے کہ وکیل ریلی نہ نکالیں تو آپ جج بحال کردیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||