BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 August, 2008, 06:09 GMT 11:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کا دورہِ چین برقرار

صدر مشرف
پروگرام کے مطابق صدر پرویز مشرف کو بدھ کے روز بیجنگ روانہ ہونا تھا
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے صدر مشرف اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے جمعرات کو چین روانہ ہو رہے ہیں۔

اس سے پہلے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر صدر جنرل پرویز مشرف نے اچانک اپنا چین کے دورہ منسوخ کردیا ہے۔

لیکن بدھ کو بعد دوپہر جاری ہونے والے ایک بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صدرِ پاکستان نے بیجنگ اولمپک کی افتتاحی تقریب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے ساتھ ہی اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بیجنگ میں آٹھ اگست سے شروع ہونے والی اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے چین جانے کا پروگرام منسوخ کر دیا ہے۔

انہیں چین کی حکومت اور چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ آنے کی دعوت دی تھی۔

پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق صدر پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کو علیحدہ علیحدہ بدھ کے روز بیجنگ روانہ ہونا تھا، لیکن آصف علی زرداری نے منگل کی شام چین کے سفیر سے ملاقات میں انہیں آگاہ کیا کہ وہ سیاسی مصروفیات کی بنا پر چین کا دورہ نہیں کرسکیں گے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق آصف علی زرداری نے کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے مدعو کیے جانے پر چین کے سفیر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مطلع کیا کہ ان کی جگہ پارٹی کے چئرمین بلاول بھٹو زرداری نمائندگی کریں گے۔

صدر پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے ایک ہی تقریب میں شرکت کے لیے دورہ چین کی خبریں آنے کے بعد بعض مقامی ذرائع ابلاغ نے یہ خبریں بھی نشر کی تھیں کہ بیجنگ میں دونوں کی ملاقات متوقع ہے۔

منگل کو زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت کے درمیان چھ گھنٹے کی طویل ملاقات میں صدر پرویز مشرف کو ہٹانے اور ججوں کی بحالی سمیت مختلف امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔

فریقین نے دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد لینے اور بدھ کی دوپہر دوبارہ ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کو حکمران اتحاد کے اجلاس کے بعد امکان ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف بریفنگ دیں گے۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب مسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما خواجہ آصف نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکمران اتحاد میں اتفاق ہوگیا ہے کہ صدر پرویز مشرف سے کہا جائے گا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں، بصورت دیگر ان کا مواخذہ ہوگا۔

ایسی صورت حال کے بعد صدر پرویز مشرف کی حامی مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری پرویز الہیٰ نے ایک بیان میں صدر پرویز مشرف کا بھرپور دفاع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ اطلاعات کے مطابق صدر پرویز مشرف نے بدھ کو ایوان صدر میں اپنے حامی سیاسی اور بعض قانونی ماہرین کو مشاورت کے لیے مدعو بھی کیا ہے۔

اٹھارہ فروی کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں بننے والی حکومت اور صدر پرویز مشرف کے درمیاں کشیدگی تو پہلے روز سے پائی جاتی ہے لیکن اب بظاہر لگتا ہے کہ ٹکراؤ ہونے والا ہے۔

آئین کے مطابق صدر کو قومی اسمبلی توڑنے اور حکومت کو گھر بھیجنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ حکومت کو صدر کا مواخذہ کرنے کا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پہل کون کرتا ہے۔

اسی بارے میں
کسی حد تک جا سکتے ہیں: شریف
04 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد