BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 August, 2008, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’معاشی کارکردگی پر تحفظات ہیں‘

صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف
صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سنیچر کو کراچی میں تاجروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ انہیں ملک کی گرتی ہوئی معاشی کارکردگی پر تحفظات ہیں جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تجارتی خسارے پر بھی تشویش ہے اور وہ ملک کی معاشی صورتحال اور اسٹاک ایکسچینج مارکیٹوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

صدر مشرف کی کراچی کے تاجروں سے ایک ماہ کے دوران یہ دوسری براہِ راست ملاقات ہے۔اس سے پہلے وہ جولائی کے پہلے ہفتے بھی تاجروں سے ملاقات کرچکے ہیں۔

کراچی میں صدر پرویز مشرف نےگورنر ہاؤس میں تاجروں کے سات رکنی وفد سے خصوصی ملاقات کی جس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی موجود تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں معاشی صورتحال اور سیاسی عدم استحکام موضوعِ بحث بنے رہے۔ تاجروں کے وفد میں ایس ایم منیر، مجید عزیز، یحیٰی پولانی، میاں زاہد حسین، مسعود نقی، حسیب اور خالد تواب شامل تھے۔

 معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ایک جانب شرح سود میں اضافہ اور دوسری جانب روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے جس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے اور آٹھ سو ملین ڈالر کا سرمایہ تقریباً ہر ماہ ملک سے باہر جارہا ہے۔
تاجر

وفد کے ارکان اس اجلاس کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے گریزاں نظر آرہے تھے تاہم وفد میں شامل ایک تاجر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تاجروں نے صدر کو ملک کی معیشت اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ناکافی اقدامات سے آگاہ کیا۔ تاجروں نے صدر کو بتایا کہ ملک میں سیاسی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ دوسری جانب سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافے کے بعد اب مزید ایک فیصد اضافے سے بھی ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

تاجروں کا کہنا تھا کہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ایک جانب شرح سود میں اضافہ اور دوسری جانب روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے جس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے اور آٹھ سو ملین ڈالر کا سرمایہ تقریباً ہر ماہ ملک سے باہر جارہا ہے۔

تاجروں نے صدر کو بتایا کہ سیاسی عدم استحکام اور سٹیٹ بینک کی پالیسیوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید مندی کا رجحان ہے جس سے خاص طور پر چھوٹے سرمایہ کاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعد حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہے جبکہ برآمدات اور درآمدات میں عدم توازن کی وجہ سے تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا ہے۔

صدر پرویز مشرف نے تاجروں کے وفد کا موقف سننے کے بعد ملک کی گرتی ہوئی معیشت اور اسٹاک مارکیٹوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ملکی معیشت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جبکہ حکومت بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے گذشتہ ماہ کے پہلے ہفتے میں صدر مشرف نے تاجروں سے ملاقات کے دوران معاشی ابتری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاشی مشکلات میں ملک کو اس وقت مالی خسارے کا سامنا ہے جس کا حل یہ ہے کہ اخراجات کم کیے جائیں اور اگر اخراجات کم نہیں ہوسکتے تو آمدن بڑھائی جائے جس کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملک سے سرمایہ کے اخراج کو روکنا اور سرمایہ کاروں کو پرکشش پیشکش کرکے مدعو کرنا ہوگا۔ صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ ماضی کی تلخیوں اور محاذ آرائی کی سیاست کو بھولنا ہوگا کیونکہ ملک میں اگر سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو معاشی خوشحالی بھی نہیں آسکتی۔

اسی بارے میں
’مشرف کا مواخذہ جلد‘
15 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد