سٹاک مارکیٹ بحران کے عوامل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین سٹاک مارکیٹوں میں بحران کا ذمہ دار ملک کی ابتر معاشی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال اور مرکزی بینک کی بے حسی کو قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک سٹاک مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن یہاں اس نے مثبت کردار ادا نہیں کیا بلکہ شرح سود میں اضافہ، ایل سی مارجن پینتیس فیصد کرنے جیسے اقدامات کیے جس سے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے تمام بازارِ حصص میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مسلسل مندی کے رجحان نے جمعرات کو پرتشدد شکل اختیار کرلی اور چھوٹے سرمایہ کاروں نے احتجاجاً ملک کی تمام سٹاک مارکیٹوں میں توڑ پھوڑ شروع کردی۔ کراچی سٹاک مارکیٹ پرگہری نظر رکھنے والے سہیل احمد کا کہنا ہے کہ جب سے ملک میں معاشی حالات زبوں حالی کا شکار ہوئے اسی وقت سے سٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان شروع ہوا اور گزشتہ ڈھائی ماہ میں مارکیٹ پینتیس فیصد تنزلی کا شکار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جب بازارِ حصص پر دباؤ آیا تو چھوٹے شئر ہولڈرز کی مارجن کالز آنا شروع ہوئیں اور پھر حصص کی کم قیمت میں فروخت دیکھی گئی جس سے مارکیٹ مسلسل مندی کا شکار رہی۔ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں ٹائی کون سمجھے جانے والے عقیل کریم ڈیڈی سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجوہات کا محور مالیاتی عدم پھیلاؤ کے لیے کیے جانے والے مرکزی بینک کے اقدامات کو ٹھہراتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے جس حساب سے مرکزی بینک سے قرضہ لیا تھا سٹیٹ بینک نے اسی کے پس منظر میں اچانک مالیاتی پھیلاؤ پر قدغن لگائی اور شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کیا، ایل سی مارجن بڑھا دیا، بچت اکاؤنٹ میں کم ترین منافع کی شرح کو بڑھا دیا اور بینکنگ سیکٹر کے حوالے سے بہت ساری تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں، پھر بجٹ میں بھی بینکنگ پر نیا ٹیکس لگایا گیا، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مسلسل گرتا چلا گیا، منی مارکیٹ کے ریٹ میں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ دیکھا گیا اور اس طرح مجموعی منفی اثر سٹاک مارکیٹ پر پڑا۔ عقیل کریم ڈیڈی کے بقول سٹیٹ بینک نے مالیاتی پھیلاؤ اور مہنگائی پر قابو پانے کے جو اقدامات کیے وہاں تک تو درست ہے لیکن انٹر بینک ریٹ میں دو سے تین فیصد کرنسی کی خرید اور فروخت میں فرق پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فرق سے بیرونِ ملک سرمایہ کار نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ اسے مالی خسارے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کا دوسرے ممالک میں کیپیٹل مارکیٹ میں بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے اور یہاں بھی مرکزی بینک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دوسری جانب انہوں نے کہا کہ شرح سود میں مزید اضافے کی بازگشت نے بھی بازارِ حصص پر منفی اثر ڈالا جس سے مارکیٹ میں افراتفری پھیل گئی۔ سٹاک مارکیٹ کے ایک اور ماہر تجزیہ کار اظہر باٹلہ نے کہا کہ بعداز انتخابات نئی حکومت کی جانب سے معیشت کے بارے میں فیصلے کرنے میں تاخیر کی گئی اور دوسری طرف گندم اور تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے ادائیگیوں اور وصولیوں میں اور تیل کی مد میں سرکاری رعایتی رقم میں عدم توازن پیدا کردیا، جس کے بعد حکومت نے رعایت دینے کے اقدام کو واپس لینا شروع کیا۔
انہوں نےکہا کہ گزشتہ کوئی چھ یا آٹھ ماہ سے جس طرح جمود کی صورتحال تھی تو موجودہ حکومت نے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی اور بین الاقوامی سطح تک قیمتوں میں اضافہ کرنے میں ذرا جلد بازی دکھائی جس کا منفی اثر مجموعی مارکیٹ پر آیا۔ اس اثر سے مہنگائی اور زر کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا تو سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر مالیاتی پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اظہر باٹلہ نے کہا کہ ان تمام عوامل کا اثر سٹاک مارکیٹ پر پڑا جبکہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے بعد بازارِ حصص میں مالیاتی فقدان دیکھنے میں آیا اور مارکیٹ مندی کی مسلسل لپیٹ میں رہی۔ سٹاک مارکیٹ جو اپریل میں پندرہ ہزار سے بھی زیادہ پوائنٹس پر کاروبار کر رہی تھی اب دس ہزار دوسو بارہ پوائنٹس تک گِر چکی ہے۔ تاہم تمام تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ مارکیٹ بہت پرکشش ہے اور حصص کی جتنی فروخت افراتفری میں ہونا تھی وہ ہوچکی۔ ان سب کا کہنا ہے کہ امید ہے کچھ عرصے تک مارکیٹ موجودہ سطح تک ہی کاروبار کرے گی اور سٹاک مارکیٹ کے بورڈ کی جانب سے سپورٹ فنڈ کے نفاذ کے بعد توقع ہے کہ مارکیٹ کچھ دنوں بعد بہتر ہونا شروع ہوجائے گی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک اور حکومت کی جانب سے معیشت کی فروغ کے سلسلے میں کیے جانے والے فیصلے سٹاک مارکیٹ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ |
اسی بارے میں کےایس ای:انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ21 February, 2008 | پاکستان بش کا دورہ، سٹاک ایکسچینج مندا08 March, 2006 | پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی17 April, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||