سٹاک ایکسچینج کراچی، پھر مندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے کے دوران دوسری بار بدھ کو شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس میں چارسواڑسٹھ پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین بازارِ حصص میں مندی کی وجوہات مرکزی بینک کی جانب سے مالیاتی پھیلاؤ پر قابو پانے کے اقدامات، ملک کی سیاسی اور سرحدی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی گرانی کو قرار دے رہے ہیں۔ بدھ کو بازارِ حصص میں کاروبار اپنی شروعات سے ہی مندی کی لپیٹ میں رہا اور پھر مارکیٹ گرتی چلی گئی۔ دو روز قبل پیر کو بھی مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا اور ہنڈریڈ انڈیکس پانچ سو اٹھار پوائنٹس کمی کے بعد گیارہ ہزار ایک سو ستتر پوائنٹس پر بند ہوا تھا جبکہ بدھ کو چارسو اڑسٹھ پوائنٹس کی مزید کمی کے بعد کاروبار دس ہزار چارسو اکانوے پوائنٹس پر بند ہوا۔ بازار حصص میں مسلسل مندی کے رجحان کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجوہات ہمہ جہتی ہیں جن میں ملکی معاملات بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی تیل کی قیمت میں اضافہ بھی۔ بازارِ حصص پر گہری نظر رکھنے والے اظہر باٹلہ کہتے ہیں کہ جب سٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کیا اس وقت بازار حصص مالیاتی فقدان کا شکار تھا اور اس کا منفی اثر یہ پڑا تھا کہ لوگ اپنے سودے فروخت کرنے لگے۔ دوسری جانب ملک کے سرحدی معاملات میں ابتری رہی اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ اور یورپ کے بیانات اس معاملے پر منفی تھے جبکہ تیل کی بڑھی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنے سرمائے کو مارکیٹ سے نکالنا شروع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام معاملات نے مل کر مارکیٹ پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے اور مارکیٹ میں مندی کا رجحان حاوی ہوتا چلا گیا، اور اپریل سے اب تک مارکیٹ اپنے عروج سے چالیس فیصد تک نیچے آچکی ہے۔ ان کے بقول جہاں تک بیرونِ سرمایہ کاروں کا تعلق ہے تو اس وقت ان کا رجحان علاقائی مارکیٹوں سے انخلاء کا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستانی مارکیٹ ان کے لئے پرکشش ہی سہی لیکن وہ علاقائی رجحان کو دیکھتے ہوئے سرمائے کا اخراج کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ، کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں کمی اور اس کی خرید اور فروخت میں کافی فرق، سرکاری اداروں کی بازارِ حصص میں عدم دلچسپی، ایسی وجوہات ہیں جس سے مقامی اور بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کا اعتماد مارکیٹ پر بری طرح مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ابھی مرکزی بینک شرح سود میں مزید اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کو چاہیے کہ وہ کرنسی کی خرید اور فروخت میں فرق کو کم کرے اور سرکاری ادارے جو بازارِ حصص میں بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں وہ سودوں کی خریدوفروخت میں حصہ لیں جس سے مارکیٹ میں بہتری آنے کی امید ہے۔ |
اسی بارے میں کےایس ای:انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ21 February, 2008 | پاکستان بش کا دورہ، سٹاک ایکسچینج مندا08 March, 2006 | پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی17 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||