احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | کراچی اسٹاک ایکسچینج |
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں عام انتخابات کے بعد سے جاری تیزی کے رجحان کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ جمعرات کو حصص کے کاروبار کے دوران 100 انڈیکس ایک موقع پر 15000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرکے 15034 پوائنٹس تک پہنچ گیا لیکن کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 142 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 14971 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کراچی اسٹاک ایکسچنج کے سابق چئرمین عارف حبیب کا کہنا ہے کہ حصص بازار میں تیزی کی ایک اہم وجہ عام انتخابات کے پرامن انعقاد کے بعد ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مل کر حکومت بنانے کا اعلان ہے جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ’آصف زرداری اور نواز شریف مل کر حکومت بنانے کی جو بات کررہے ہیں اور خاص کر آصف زرداری نے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں اور یہ بھی کہا کہ وہ سرمایہ کاروں کی بہتری کے لیے بھی کام کریں گے تو اس کا مارکیٹ نے ایک طرح سے خیرمقدم کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی ڈھائی فیصد اضافہ ہوا ہے اس کا بھی ایک مثبت اثر مارکیٹ پر آیا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار محمد سہیل کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہمیشہ انتخابات کے بعد حصص کے کاروبار میں تیزی آتی ہے تاہم اس مرتبہ یہ تیزی ماضی سے زیادہ رہی۔
 | مستحکم حکومت کی اہمیت  سرمایہ کاروں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کس جماعت کی حکومت ہے بلکہ ان کے لئے مستحکم حکومت کی اہمیت ہوتی ہے۔  محمد سہیل، تجزیہ کار |
انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے تک ملک میں سیاسی استحکام کے بارے میں سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں بہت سے شکوک و شبہات تھے کہ انتخابات کے بعد کس طرح کی حکومت بنے گی اور کون حکومت بنائے گا لیکن اس بارے میں اب بہت سی چیزیں واضح ہوچکی ہیں جس کا اثر مارکیٹ پر پڑا ہے اور ملکی اور غیرملکی دونوں سرمایہ کار حصص خرید رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل گر رہی تھی لیکن سرمایہ کاروں کے اعتماد کی وجہ سے ہی اس میں اضافہ ہوا ہے۔ محمد سہیل نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کس جماعت کی حکومت ہے بلکہ ان کے لیے مستحکم حکومت کی اہمیت ہوتی ہے۔ ’الیکشن کے بعد ان کے ذہن میں ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں جو آئندہ حکومت بنے گی وہ مستحکم ہوگی۔‘ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند ماہ سے مسلسل حالات کی خرابی کی وجہ سے دوسری کاروباری سرگرمیوں میں بھی مندی آگئی تھی لیکن اب اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ حکومت سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد وہ دوبارہ بحال ہوجائیں گی۔ |