BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 July, 2008, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹاک ایکسچینج کراچی،شدیدمندی

کراچی سٹاک ایکسچینج فائل فوٹو
حصص بازار پانچ سو اٹھارہ پوائنٹس کی کمی کے بعدگیارہ ہزار ایک سو ستتر پوائنٹ پر بند ہوا
ہفتہ کے آغاز پر کراچی سٹاک ایکسچینج میں، پیر کو شدید مندی کا رجحان رہا اور حصص بازار پانچ سو اٹھارہ پوائنٹس کی کمی کے بعدگیارہ ہزار ایک سو ستتر پوائنٹ پر بند ہوا، مندی کی وجہ ملک میں جاری سیاسی اور سرحد کے حالات بتائے جا رہے ہیں۔

شروع ہی سے مندی کا رحجان رہا اور مارکیٹ سوا پانچ سو پوائنٹس تک گر گئی۔ ماہرین کے مطابق ملک کی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں عدم دلچسپی کا رحجان پیدا ہوا ہے اور حصص کا لوئر لاک ایک سے پانچ فیصد کردیا گیا ہے اور لوگوں نے اپنے حصص زیادہ تر کم ترین قیمت پر فروخت کیے اور مارکیٹ گرتی چلی گئی۔

مارکیٹ کے تجزیہ کار اظہر باٹلہ کے مطابق پانچ فیصد لوئر لاک کے فیصلے کے بعد توقع تھی کہ مارکیٹ میں گراوٹ بہت تیزی سے ہوگی لیکن مقامی سرمایہ کاروں اور اداروں کے سہارے سے مارکیٹ میں کچھ بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم سیاسی حالات اور سرحدی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہوگئی ہے۔

ان کے بقول مارکیٹ میں استحکام کے تمام اشارے موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں اگر سیاسی بہتری ہوئی اور سعودی عرب کی جانب سے تیل کے عوض واجبات کی وصولی میں توقف کا فیصلہ ہواتو مارکیٹ سے بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔

سائڈ لائن سودے
 مارکیٹ میں نہ ہونے والے سائڈ لائن سودے بھی بازارِ حصص پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور ان کی وجہ سے دوسرے سودوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے
تجزیہ کار

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں نہ ہونے والے سائڈ لائن سودے بھی بازارِ حصص پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور ان کی وجہ سے دوسرے سودوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے اور اگر یہ سودے ہونا شروع ہو جاتے ہیں تو بھی مارکیٹ پر سے دباؤ ختم ہوگا اور کاروبار میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

افواہوں کے بارے میں اظہر باٹلہ نے کہا کہ مارکیٹ میں آج افواہوں کا دور دورہ نہیں تھا بلکہ لوئر لاک جو آج سے پہلے ایک اعشاریہ ایک فیصد لگا ہوا تھا وہ پانچ فیصد کردیا گیا اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کار ان کے بروکر دونوں نے اپنے سودوں کو کم ترین قیمت پر فروخت کرنے لگے جس کی وجہ سے مارکیٹ گرتی چلی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی امر تھا کیونکہ سرمایہ کار جن کے سودے گزشتہ دس یا گیارہ سیشن میں نہیں ہوسکے تھے وہ بھی اسی امید میں تھے کہ جیسے ہی پانچ فیصد کے لوئر لاک پر عملدرآمد ہوگا تو وہ اپنے سودے کم ترین قیمت پر فروخت کریں گے اور اسی وجہ سے مارکیٹ میں سارا دن مندی کا کاروبار ہوا۔

کراچی اسٹاک ایکسچنج انتخابات کے بعد
کراچی اسٹاک ایکسچنج انڈیکس میں ریکارڈاضافہ
سٹاک ایکسچینجدورے سے مایوسی
کراچی سٹاک ایکسچینج مندے کا شکار
کراچی بازارِ حصصایمرجنسی کا دھچکہ
کراچی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد