پاکستانی معیشت دباؤ میں: رپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مرکزی بینک نے سنیچر کو رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق ملک کی معیشت بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار نظر آرہی ہے اور پانچ سال میں پہلی بار حقیقی مجموعی پیداوار کی نمو چھ فیصد سے کم ہوجانے، مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے اور مالیاتی خسارے میں خاصے اضافے کا خدشہ ہے۔ سٹیٹ بینک کی اس رپورٹ کے مطابق عالمی گرانی کی بلند سطح کے ملکی گرانی پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوئے ہیں، مالی سال 2008 میں قیمتوں کے تمام اشاریوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے اور یہ گزشتہ پانچ برسوں کی اوسط کے مقابلے میں کافی حد تک بلند سطح پر رہا ہے۔ اپریل 2008 کے دوران غذائی اور غیرغذائی دونوں گروپوں کی وجہ سے صارف اشاریہ قیمت گرانی بڑھ کر 17.2 فیصد ہوگئی، خاص طور پر غذائی مہنگائی اپریل میں 25.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ غیرغذائی اور غیرتوانائی اشیاء پر مہنگائی جو اپریل 2008 میں بڑھ کر گیارہ فیصد کے قریب پہنچ گئی تھی اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔ سرکاری قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اجرتوں میں اضافے کا دباؤ موجود ہے اور درآمدہ گرانی میں بھی اضافے کا رجحان پایا جاتا ہے جس سے واضح ہے کہ قلیل مدت میں نرخوں کے استحکام کو برقرار رکھنا دشوار ہوسکتا ہے۔
اس طرح اس شعبے نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں محض 4.8 فیصد نمو حاصل کی ہے جبکہ مالی سال 2007 کے اسی عرصے میں یہ نمو نو فیصد رہی تھی۔ مرکزی بینک کے مطابق، بجلی کی قلت کی وجہ سے پیش آنے والی رکاوٹوں نے اشیاء سازی کی سرگرمیوں پر بہت گہرا اثر ڈالا ہے، زیادہ اثر ذیلی شعبے دھات پر پڑا جو کہ ویسے بھی اسٹیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں سے متاثر رہا۔ بجلی کی فراہمی میں بار بار تعطل اور خام مال کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے ٹیکسٹائل اور کیمیکلز کے ذیلی شعبوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ مالی سال 2008 میں معیشت میں سست رفتاری بنیادی طور پر اشیاء پیدا کرنے والے شعبوں میں آئی۔ مثال کے طور پر اہم فصلوں کی مایوس کن پیداوار نے رواں مالی سال کے دوران نمو کو سست کرنے میں بڑا کردارا ادا کیا۔ ملک میں کاشتکاروں کو زرعی اجناس کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے غیریقینی پالیسی، خام مال یعنی کیڑے مار دوائیں، بیج وغیرہ کے معیار کے بارے میں ناکافی قواعد و ضوابط اور ناقص انتظام کی وجہ سے بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ ان شعبوں پر پالیسی سازی کے عمل کو بہتر کرنے سے پیداوار میں اضافے سے جلد مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں خسارے کا رجحان جاری رہا اور بائیس مئی تک غیرملکی زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوکر ساڑھے گیارہ ارب ڈالر رہ گئے جبکہ ڈالر کےمقابلے میں روپے کی قدر میں ساڑھے تیرہ فیصد کمی واقع ہوئی۔ رواں مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ 16.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ رقم تک پہنچ گیا جو تجارتی خسارے کے سالانہ ہدف سے 37.8 فیصد زیادہ ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق، حکومتی قرضوں کا اثر رواں مالی سال میں نمایاں رہا اور دس مئی تک یہ قرض بڑھ کر ساڑھے پانچ سو ارب روپے تک پہنچ گیا جو ریکارڈ سطح ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اس عرصے تک یہ قرض صرف ساڑھے پینتالیس ارب روپے تھا، اور اس طرح حکومت کا واجب الادا مجموعی قرض نوسو چالیس اعشاریہ چھ ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر حکومتی قرضے کا رجحان جاری رہا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ | اسی بارے میں شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان معاشی ترقی اور سیاسی خطرات25 March, 2008 | پاکستان ’ترقی کا ہدف پورا نہیں ہو گا‘31 March, 2008 | پاکستان ’غریب کی آمدن وہی، خرچہ دوگنا ہوگیا‘15 April, 2008 | پاکستان تیل پھر مہنگا کرنا پڑے گا:وزیر خزانہ26 April, 2008 | پاکستان پاکستانی معیشت، بحرانوں کی زد میں11 January, 2008 | پاکستان گندم ذخیرہ کرنے والوں کو وارننگ 17 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||