گندم ذخیرہ کرنے والوں کو وارننگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اڑتالیس گھنٹے کے اندر اپنی گندم حکومت کو بیچ دیں ورنہ ذخیرہ کردہ گندم چھاپے مار کر ضبط کر لی جائے گی۔ یہ فیصلہ سنیچر کو خوراک و زراعت کے انچارج وزیر نذر محمد گوندل کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں آٹے کے بحران اور گندم کی سرکاری گداموں میں وافر مقدار میں موجودگی یقینی بنانا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ پیر انیس مئی سے ملک بھر میں گندم کا ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف چھاپے شروع کیے جائیں گے اور جو بھی حکومت کو ذخیرہ اندوزوں کے بارے میں معلومات دے گا حکومت اسے انعام دے گی۔
حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جو کسان گندم خریدنے والے سرکاری مراکز تک گندم پہنچائے گا اسے حکومت گندم کے مقررہ کردہ نرخ کے علاوہ پچیس روپے فی بوری ٹرانسپورٹ چارجز کی مد میں بھی ادا کرے گی۔ وزارت خوراک و زراعت کے ترجمان کے مطابق حکومت نے ہدایت کی ہے کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان تک گندم لے جانے کے لیے ریلوے کا واحد ذریعہ استعال کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت بائیس ملین ٹن ہے جس میں ساٹھ لاکھ ٹن افغانستان کی ضرورت بھی شامل ہے۔ | اسی بارے میں ڈھائی لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی06 May, 2008 | پاکستان ’زراعت کا حصہ نصف رہ گیا ہے‘07 May, 2008 | پاکستان نصف آبادی غذائی قلت کا شکار 22 April, 2008 | پاکستان ’صوبے آٹےکی فراہمی یقینی بنائیں‘20 April, 2008 | پاکستان ’زرعی ملک، اس لیے آٹے کی کمی بےجواز‘03 February, 2008 | پاکستان راشن کارڈ دوبارہ رائج کرنے پرغور22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||