نصف آبادی غذائی قلت کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ پاکستان میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد چھ کروڑ سے بڑھ کر سات کروڑ ستر لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو ملکی آبادی کا تقریباً نصف ہیں۔ یہ بات ایشیا کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر انتھونی بین بری نے اسلام آباد میں وزارت خوراک و زراعت اور خارجہ میں حکام سے ملاقاتوں کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر طے شدہ پاکستانی معیار کے مطابق وہ افراد غذائی قلت کی ذیل میں آتے ہیں جنہیں ہر روز تئیس سو پچاس کیلوریز کے برابر خوراک کھانے کو نہیں ملتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غذائی قلت کے شکار افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو زراعت کے پیشے سے منسلک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جاری خوراک کے بحران کے باعث غذائی قلت کے شکار لوگوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے پاکستان میں خوراک کے بحران کا شکار لوگوں کی مدد کے لیے عطیات میں اضافے کی بھی اپیل کی ہے۔ انتھونی بین بری نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی خوراک کی قیمتوں کا بحران شدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے ان لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سال کے دو یا تین مہینوں میں غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر زراعت سے منسلک لوگ۔ کاشتکار اپنے خاندان کے لیے خوراک اگا تو لیتے ہیں لیکن یہ ذخیرہ انکے سال بھر کی ضروریات کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہو گا کہ یہ ایک سنگین بحران ہے۔ ’اس وقت صورتحال بالکل ایسے ہے کہ آپ دو انجن والے جہاز میں ہیں جسکا ایک انجن فیل ہو چکا ہے اور اگر اس موقعے پر کچھ نہ کیا گیا تو ہم بالکل تباہ بھی ہو سکتے ہیں۔ جسکے بعد ایک بہت بڑا انسانی سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ جس سے خطے بلکہ دنیا کے کروڑوں لوگ متاثر ہوں گے۔‘ انتھونی بین بری نے بتایا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان میں چالیس لاکھ افراد کو خوراک کی فراہمی کا بندوبست کرتا ہے لیکن خوراک اور ذرائع آمد و رفت کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعین شدہ بجٹ میں ان تمام افراد کو خوراک کی فراہمی نا ممکن ہے۔ لہٰذا انکے ادارے نے ان پاکستانیوں کے لیے مزید عطیات کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ پاکستان کی درمیانی آمدن والے ایک بڑے طبقے کو انتہائی غربت میں جانے سے بچانے کے لئے حکومت کو فوری طور پر سوشل سیفٹی نیٹ میں لا کر انکی سماجی ابتری کو روکنا ہو گا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ دنیا کے چالیس ممالک خوراک کی قیمتوں میں اس بحران کا شکار ہیں جسکی وجہ سے ان ممالک میں خوراک کے علاوہ سماجی نوعیت کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ خصوصاً ایشیا کے غریب ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد اپنی آمدن کا ستر فیصد خوراک کے حصول پر خرچ کرتی ہے لیکن قیمتوں میں اضافے اور آمدن وہی رہنے کے باعث وہ اپنی تمام آمدن خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ اور اسکی وجہ سے صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر کے مطابق تیل اور خوراک کی قیمتوں میں یہ اضافہ خود انکے کام میں بھی شدید مشکلات کا باعث ہے۔ ’ ہم پر اس بحران کے مختلف ممالک میں مختلف طرح سے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بعض حکومتوں نے خوراک کے برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لہٰذا ہم صرف قیمت کے بحران کا شکار نہیں ہیں بلکہ مارکیٹ سے خوراک خریدنا بھی ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر امداد دینے والے ممالک نے افغانستان کے لیے جو رقم ہمیں دی ہے اس سے ہم اپنی ضرورت کے مطابق گندم خرید ہی نہیں سکتے۔ یہ بالکل نا ممکن ہے۔‘ انتھونی بین بری کے مطابق زرعی پیداوار میں اضافہ ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے اور جو ممالک اپنے کاشتکاروں کو غذائی اجناس نہ اگانے کی ترغیب دیتے تھے انہیں اپنی پالیسی بدلنا ہوگی۔ اسکے ساتھ ساتھ تقریباً تمام ممالک کو زرعی اجناس کی تجارت کے بارے میں اپنے پالیسیز پر نظر ثانی کرنا ہو گی تاکہ عالمی سطح پر درپیش اس چیلنج کو بین الاقوامی سطح پر کی گئی تدابیر کے ذریعے نمٹا جا سکے۔ |
اسی بارے میں چمن: آٹےاور بجلی کے بحران پراحتجاج20 April, 2008 | پاکستان پاک، افغان فورسز کے درمیان جھڑپ14 April, 2008 | پاکستان ’اصل چیلنج اعلان پر عملدرآمد‘29 March, 2008 | پاکستان ’زرعی ملک، اس لیے آٹے کی کمی بےجواز‘03 February, 2008 | پاکستان ’بحران حکومتی نااہلی کا نتیجہ‘ 15 January, 2008 | پاکستان سندھ:رینجرز موجود مگر آٹا غائب14 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||