چمن: آٹےاور بجلی کے بحران پراحتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں افغان سرحد کے قریب واقع شہر چمن میں آٹے کے بحران، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور شہر میں لا قانونیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا ہے۔ یہ احتجاج پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی اپیل پر کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے۔ اتوار کی صبح جماعت کے دفتر سے جلوس نکالا گیا اور بعد میں مقررین نے خطاب کیا ہے۔ سابق صوبائی وزیر اور جماعت کے رہنما قہار ودان نے کہا ہے کہ حکومت آٹے کی فراوانی اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے وگرنہ وہ بڑی تحریک شروع کریں گے۔ چمن اور قلعہ عبداللہ میں چوری ڈکیتی اور اغوا کی وارداتوں میں اضافے کے علاوہ آٹے کی سمگلنگ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مقررین نے کہا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے لیکن حکومت کی جانب سے جرائم کی روک تھام کے لیے کوئی کوششیں نظر نہیں آرہیں۔ گزشتہ ماہ قلعہ عبداللہ سے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سلیم مروت کو ڈرائیور اور محافظوں سمیت اغوا کیا گیا تھا جنہیں مذاکرات کے بعد چھوڑ دیاگیا تھا۔ پاک افغان سرحد پر فرنٹیئر کور کی بھاری نفری کی موجودگی کے باوجود افغانستان کی جانب آٹے کی سمگلنگ جاری ہے۔گزشتہ روز آٹے سے لدے ہوئےکچھ ٹرک پکڑے گئے تھے لیکن مقامی لوگوں کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں آٹے سے لدی ہوئی گاڑیاں مختلف راستوں سے افغانستان کی جانب جاتی دکھائی دیتی ہیں۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں آٹے کا بحران انتہائی شدت اختیار کر گیا ہے جہاں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت پانچ سو اور چھ سو روپے کے درمیان ہے۔ | اسی بارے میں آٹا بحران: آخر کیا چھپانا چاہتے ہیں؟16 January, 2008 | پاکستان ’بحران کے خاتمے میں وقت لگےگا‘15 January, 2008 | پاکستان آٹے کے بحران کا ذمہ دار کون؟14 January, 2008 | پاکستان آٹے کے بحران میں پِس عام آدمی رہا ہے14 January, 2008 | پاکستان پاکستان آٹے کا بحران شدید تر13 January, 2008 | پاکستان پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ 13 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||