BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 07:06 GMT 12:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زرعی ملک، اس لیے آٹے کی کمی بےجواز‘

 آٹا
آٹے کی قلت مناسب انتظام کے فقدان کی وجہ سے تھی:صدر مشرف
صدر پرویز مشرف نے بھی بالاخر ملک میں آٹے کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے گندم اور آٹے کی کمی کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے آٹے کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی خوراک کمیٹی کو جامع حکمت عملی اور نگرانی کا موثر نظام وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صدارتی کیمپ آفس راولپنڈی میں ہفتہ کو ملک میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر نے ملک میں وسیع زرخیز زمین اور شاندار آبپاشی نظام کی موجودگی میں کمی کا کوئی جواز نہیں ہے۔

صدر نے کہا کہ آٹے کی قلت مناسب انتظام کے فقدان کی وجہ سے تھی لہذا نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر نے درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کا ذکر کیا جس پر خطیر زرمبادلہ صرف ہوتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ملک میں آئل سیڈ کی کاشت بڑھانے کیلئے بھرپور کوشش کی جائے۔

صدر نے کہا کہ میرانی اور سبکزئی ڈیم، تھر اور کچھی نہروں کی تکمیل سے بہت بڑا رقبہ زیر کاشت آ رہا ہے لہٰذا ان علاقوں میں آئل سیڈ کی کاشت کے امکانات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

بعد ازاں وفاقی وزیر خوراک و زراعت محمد عیسیٰ جان بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گندم اور آٹے کی سمگلنگ کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور صدر نے اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں آٹے یا گندم کا کوئی بحران نہیں اور آٹے کے 20 کلوگرام کے 12 لاکھ تھیلے موجود ہیں جو فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی فوڈ کمیٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) فاروق احمد خان نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد میں صوبائی انتظامیہ کی معاونت اور مانیٹرنگ کے لیے وزیراعظم معائنہ کمیشن کو ذمہ داری سونپی جائے گی۔

خوردنی اشیاء کی دستیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق احمد خان نے کہا کہ اس وقت ملک میں چاول کی پیداوار 5.5 ملین ٹن ہے جبکہ اس کی کھپت 2.2 ملین ٹن ہے، اس طرح چینی کی دستیابی 1.3 ملین ہے جو ضرورت سے کافی زائد ہے۔ چنا اور مونگ جیسی دالیں بھی ضرورت سے زائد ہیں۔

خوردنی تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کی رپورٹس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر بڑھ رہی ہیں تاہم مل مالکان نے یقین دلایا ہے کہ اس کی قلت واقع نہیں ہو گی۔

اسی بارے میں
پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ
13 December, 2007 | پاکستان
سرحد: لوڈ شیڈنگ پر احتجاج
03 January, 2008 | پاکستان
راشن کارڈ آٹھ فروری سے
23 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد