راشن کارڈ آٹھ فروری سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے کم آمدنی والے افراد کو یوٹیلٹی سٹورز سے رعایتی نرخوں پر کھانے پینے کی ضروری اشیاء فراہم کرنے کے لیے آٹھ فروری سے راشن کارڈ سکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بارے میں فیصلہ بدھ کو یہاں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں محمد میاں سومرو کی زیر صدارت یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ تاہم حزب اختلاف کے چند رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ عام انتخابات سے محض دس روز قبل اس سکیم کو شروع کرنے سے غریب ووٹروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس کی ایک مثال وہ زکوٰۃ کے نظام کی دیتے ہیں جہاں ماضی میں بعض عناصر نے غرباء کی امداد کے بدلے میں سیاسی فوائد حاصل کیے۔ تاہم حکومت اس سے انکار کرتی ہے۔ وزیراعظم نے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے جو ملک بھر سے بیت المال، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ زکوۃ و عشر، نادرا، صوبائی اور مقامی حکومتوں سمیت متعلقہ اداروں سے کم آمدنی والے لوگوں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرے گی تاکہ یہ سکیم آٹھ فروری سے شروع کی جا سکے۔ یہ کمیٹی دس دن کے اندر اعداد و شمار، اہلیت اور دیگر طریقہ کار وضع کرے گی تاکہ سکیم مقررہ تاریخ پر شروع کی جا سکے۔ اس سکیم کی افادیت میں ایک اور مسئلہ یوٹیلٹی سٹورز کی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم شوکت عزیز کی حکومت نے ان کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا تھا تاہم اس پر ابھی عمل درآمد مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس لیئے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کم سٹورز کی وجہ سے کہیں پھر سے لمبی لمبی قطاریں نہ دیکھنی پڑیں۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے 1971ءمیں کام شروع کیا اور اس کے اس وقت محض بیس سٹور تھے جن کی تعداد اب بڑھ کر اب ساڑھے چار ہزار ہوگئی ہے۔ اس تعداد کو چھ ہزار تک بڑھانے پر کام جاری ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق کروڑوں کی آبادی کے لیے یہ پھر بھی کم ہوں گے۔ |
اسی بارے میں ’بحران کے خاتمے میں وقت لگےگا‘15 January, 2008 | پاکستان آٹا بحران: آخر کیا چھپانا چاہتے ہیں؟16 January, 2008 | پاکستان آٹے کی قیمت: نیب میں ریفرنس دائر21 January, 2008 | پاکستان راشن کارڈ دوبارہ رائج کرنے پرغور22 January, 2008 | پاکستان چاول اور خوردنی تیل بھی مہنگے22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||