BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 May, 2008, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈھائی لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی

خوراک کا بحران
حکومت پاکستان پہلے ہی پندرہ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی رابط کمیٹی کے اجلاس میں خوراک کے بحران پر غور کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں ڈھائی لاکھ ٹن گندم فوری طور پر درآمد کی جائیگی جبکہ چاول کی بیرون ملک فروخت کا فیصلہ ملکی ضرورت پوری ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

حکومت پاکستان پہلے ہی پندرہ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور یہ ڈھائی لاکھ ٹن اسی کا حصہ ہے جسے فوری طور پر ملک کے اندر لانے کا بندوبست کیا جائے گا۔

سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں آٹے اور گندم کی فراہمی پر دباؤ کے باعث کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے ملک کے غریب ترین طبقے تک سستے آٹے کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظور دی جو اس مقصد کے لیے ’یوٹیلٹی سٹورز‘ کو استعمال کرے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آٹے اور دیگر زرعی اجناس کی بیرون ملک سمگلنگ روکنے کے لیے بھی متعدد اقدامات تجویز کیے۔

آٹے کے بحران ذمہ دار کون ہے؟
آٹے کے بحران پر سوال بے شمار، جواب ندارد
پروین بی بی’بچے بھوکے ہیں‘
’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد