ڈھائی لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی رابط کمیٹی کے اجلاس میں خوراک کے بحران پر غور کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں ڈھائی لاکھ ٹن گندم فوری طور پر درآمد کی جائیگی جبکہ چاول کی بیرون ملک فروخت کا فیصلہ ملکی ضرورت پوری ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان پہلے ہی پندرہ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور یہ ڈھائی لاکھ ٹن اسی کا حصہ ہے جسے فوری طور پر ملک کے اندر لانے کا بندوبست کیا جائے گا۔ سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں آٹے اور گندم کی فراہمی پر دباؤ کے باعث کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے غریب ترین طبقے تک سستے آٹے کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظور دی جو اس مقصد کے لیے ’یوٹیلٹی سٹورز‘ کو استعمال کرے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آٹے اور دیگر زرعی اجناس کی بیرون ملک سمگلنگ روکنے کے لیے بھی متعدد اقدامات تجویز کیے۔ |
اسی بارے میں پاکستانی معیشت، بحرانوں کی زد میں11 January, 2008 | پاکستان نصف آبادی غذائی قلت کا شکار 22 April, 2008 | پاکستان آٹے کی قیمت میں اضافہ یا کمی؟17 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||