’صوبے آٹےکی فراہمی یقینی بنائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں سنیچر کو صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خاص طور پر شرکت کی اور کابینہ میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبائی سرحدیں سِیل کرنے کے بعد گندم کی خریداری پر بھر پور توجہ دی جائے گی تاکہ گندم کی ترسیل فلور ملوں تک یقینی بنائی جاسکے۔ سندھ کابینہ میں آٹے کے بحران کے حوالے سے بحث کی گئی اور اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرحدوں کو سیل کرنے کے ساتھ ساتھ گندم کی خریداری پر توجہ دی جائے گی تاکہ آٹے کی ترسیل اور فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس کے بعد سنیچر کی شام صوبائی وزیرِ اطلاعات شازیہ مری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ سب سے پہلے گندم کی سمگلنگ پر قابو پانا ضروری ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کی روشنی میں سیاحوں کو مری کے بعد صوبۂ سندھ میں ایک اور تفریحی مقام متعارف کرانے کے لیے ضلع دادو میں گورکھ ہل سٹیشن کو جلد از جلد تعمیر کرنے کے بعد سیاحوں کے لیے کھولا جائے گا اور تاریخی مقام موئن جودڑو تک سڑکیں بہتر کی جائیں گی تاکہ وہاں بھی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو جبکہ عوام بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں ان مقامات پر جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صوبائی خودمختاری پر بھی بات کی گئی جبکہ لاڑکانہ کو ماڈل شہر قرار دیا گیا ہے جہاں بینظیر بھٹو لائرز ہاؤسنگ سکیم کے لیے وزیراعظم نے دس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ اسے تعمیر کرنا شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ میں صحت کے شعبہ میں ترقی کے لیے بنیادی صحت کے مراکز کو ترقی دی جائے گی تاکہ صحت کی سہولتوں کو عام آدمی کے لئے ممکن بنایا جاسکے۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ حکومت اپنی مالی ضروریات کو پورا کرنے اور مالی طور پر مستحکم ہونے کے لئے بھی اقدامات کرنے پر غور کررہی ہے تاکہ ترقیاتی کام جاری رہ سکیں۔ | اسی بارے میں آٹے کی قیمت میں اضافہ یا کمی؟17 April, 2008 | پاکستان ’زرعی ملک، اس لیے آٹے کی کمی بےجواز‘03 February, 2008 | پاکستان ’اناج گھر‘ سے اناج کہاں گیا؟15 January, 2008 | پاکستان آٹا بحران،مہنگائی کیخلاف مظاہرے12 January, 2008 | پاکستان ’قیمتیں کم کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘11 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||