’زراعت کا حصہ نصف رہ گیا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ چالیس برس کے دوران ملکی مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ نصف رہ گیا ہے جبکہ اس دوران صنعت اور سروسز کے شعبوں نے بتدریج ترقی کی ہے۔ بدھ کے روز سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا گیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بعض اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ وزارت زراعت کے انچارج وزیر چوہدری نثار علی خان نے تحریری طور پر ایوان کو بتایا کہ سنہ انیس سو ستر میں ملکی مجموعی پیدوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ انتالیس فیصد کے قریب تھا جو گزشتہ برس تک اکیس فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے جبکہ اس دوران صنعت، اور خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں بالرتیب بیس اور ترپن فیصد اضافہ ہوا۔ سینیٹر طلحہ محمود کے ایک اور سوال کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نو فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گندم کی پیدوار میں دو فیصد سے کم اضافہ دیکھا گیا۔ زرعی شعبے میں اس تنزلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سینیٹ کو بتایا گیا ہے زراعت کے مقابلے میں اب خدمات اور صنعت کی جانب رحجان بڑھ رہا ہے جو عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلی کا حصہ ہے۔ اس تبدیلی کی ایک اور وجہ معیشت کا دیہی سے شہری علاقوں میں منتقل ہونا بھی بتایا گیا ہے۔ ہاؤسنگ گھپلہ ہاؤسنگ کے وفاقی وزیر رحمت اللہ کاکڑ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پیش رو صفوان اللہ نے کراچی میں وفاقی حکومت کی اربوں روپے کی جائیداد غیر قانونی طور پر مختلف افراد کو الاٹ کردی اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس الاٹمنٹ کی فائل بھی وزارت سے غائب کر دی گئی ہے۔ بدھ کے روز سینیٹ میں بابر اعوان کے نکتہ اعتراض کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت قانون سے مشاورت کے بعد یہ غیر قانونی الاٹمنٹس منسوخ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور اس سکینڈل میں ملوث دو سرکاری افسران معطل کئے جا چکے ہیں۔ سٹیل مل کی نجکاری
وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ اس سال سٹیل مل کا تین ارب کا منافع ظاہر کرتا ہے کہ سابق دور میں اسے نجی شعبے کو فروخت کرنے کا فیصلہ کتنا غلط تھا۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف سینٹرز کے سوالات کے جواب میں کہی۔ سٹیل مل نے مالی سال دو ہزار چھ اور سات کے دوران تین ارب سے بھی زیادہ نفع کمایا۔ وفاقی وزیر کے مطابق سٹیل مل نے یہ نفع کئی سال بعد کمایا ہے جبکہ سابقہ حکومت پچھلے برس اسے نجی شعبے کو فروخت کرنا چاہتی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||