BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 May, 2008, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زراعت کا حصہ نصف رہ گیا ہے‘

زراعت کے مقابلے میں سروسز کا پلڑا بھاری ہے
پاکستان میں گزشتہ چالیس برس کے دوران ملکی مجموعی پیداوار میں زراعت کا حصہ نصف رہ گیا ہے جبکہ اس دوران صنعت اور سروسز کے شعبوں نے بتدریج ترقی کی ہے۔

بدھ کے روز سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا گیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بعض اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔

وزارت زراعت کے انچارج وزیر چوہدری نثار علی خان نے تحریری طور پر ایوان کو بتایا کہ سنہ انیس سو ستر میں ملکی مجموعی پیدوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ انتالیس فیصد کے قریب تھا جو گزشتہ برس تک اکیس فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے جبکہ اس دوران صنعت، اور خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں بالرتیب بیس اور ترپن فیصد اضافہ ہوا۔

سینیٹر طلحہ محمود کے ایک اور سوال کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نو فیصد کے قریب کمی واقع ہوئی ہے جبکہ گندم کی پیدوار میں دو فیصد سے کم اضافہ دیکھا گیا۔

زرعی شعبے میں اس تنزلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سینیٹ کو بتایا گیا ہے زراعت کے مقابلے میں اب خدمات اور صنعت کی جانب رحجان بڑھ رہا ہے جو عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلی کا حصہ ہے۔

اس تبدیلی کی ایک اور وجہ معیشت کا دیہی سے شہری علاقوں میں منتقل ہونا بھی بتایا گیا ہے۔

ہاؤسنگ گھپلہ

ہاؤسنگ کے وفاقی وزیر رحمت اللہ کاکڑ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پیش رو صفوان اللہ نے کراچی میں وفاقی حکومت کی اربوں روپے کی جائیداد غیر قانونی طور پر مختلف افراد کو الاٹ کردی اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس الاٹمنٹ کی فائل بھی وزارت سے غائب کر دی گئی ہے۔

بدھ کے روز سینیٹ میں بابر اعوان کے نکتہ اعتراض کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت قانون سے مشاورت کے بعد یہ غیر قانونی الاٹمنٹس منسوخ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور اس سکینڈل میں ملوث دو سرکاری افسران معطل کئے جا چکے ہیں۔

سٹیل مل کی نجکاری

سٹیل مل کی نجکاری پر بڑا تنازعہ ہوا تھا

وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ اس سال سٹیل مل کا تین ارب کا منافع ظاہر کرتا ہے کہ سابق دور میں اسے نجی شعبے کو فروخت کرنے کا فیصلہ کتنا غلط تھا۔

یہ بات انہوں نے بدھ کے روز سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف سینٹرز کے سوالات کے جواب میں کہی۔

سٹیل مل نے مالی سال دو ہزار چھ اور سات کے دوران تین ارب سے بھی زیادہ نفع کمایا۔ وفاقی وزیر کے مطابق سٹیل مل نے یہ نفع کئی سال بعد کمایا ہے جبکہ سابقہ حکومت پچھلے برس اسے نجی شعبے کو فروخت کرنا چاہتی تھی۔

آٹاغذائی عدم تحفظ
پاکستان: نصف آبادی خوراک کی قلت کا شکار
غریب بچہ(فائل فوٹو)خوراک کا بحران
’بڑھتی قیمتوں سے دس کروڑ متاثر ہوسکتے ہیں‘
سٹیل ملز کی نجکاری
پہنچی وہیں پہ خاک، جہاں کا ۔ ۔۔۔
سٹیل مل نجکاری
کیا ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد