کیا ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوگی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تو بالآخرخود حکومت نے تسلیم کرلیا کہ پاکستان سٹیل کی نجکاری غلط ہوئی تھی۔ سٹیل مل کو گزشتہ سال کوئی اکیس ارب روپے میں ایک کنسورشیم کے حوالہ کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا ۔ بہت سے لوگوں کو اس پر اعتراض تھا اور یوں معاملہ ملک کی اعلٰی ترین عدالت میں گیا جہاں اس سودے کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ جس وقت یہ سودا ہوا ، اس وقت بہت سے اعتراضات میں سے ایک یہ تھا کہ پاکستان سٹیل کی انیس ہزار ایکڑ زمین کی قیمت ہی سودے کی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومتی اہلکاروں کا اصرار تھا کہ یہ اندازے درست نہیں ہیں اور یہ کہ پاکستان سٹیل کی ساری زمین یعنی انیس ہزار ایکڑ بیچی نہیں جا رہی بلکہ صرف پلانٹ اور اس کے زیر استعمال کوئی ساڑھے چار ہزار ایکڑ کا سودا کیا گیا ہے۔ زمین اور پلانٹ سب کی قیمت اکیس ارب روپے سے تھوڑی سی زیادہ تھی۔ اگر سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی تو ملک کو اربوں روپے کا نقصان تقریباً پہنچا ہی دیا گیا تھا۔ اب اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل کی ’نان کور‘ زمین کی (یعنی وہ زمین جو پلانٹ سے وابستہ نہیں ہے) قیمت ستّر لاکھ روپے فی ایکڑ مقرّر کی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فی الحال ’ نان کور‘ زمین میں سے ایک ہزار چار سو تئیس ایکڑ بیچنے کا فیصلہ کیا ہے اس میں سے ایک ہزار ایکڑ کو ابھی قابل استعمال بنانا ہے۔ جبکہ پاکستان سٹیل کی جو کور زمین بیچ دی گئی تھی وہ ساری قابل استعمال ہے اور اس کی قیمت بھی سرکار کی اب مقرر کردہ قیمت سے زیادہ بتائی گئی تھی۔
زیادہ قیمت تو اس زمین کی بھی بتائی جارہی ہے جو اقتصادی رابطہ کمیٹی صنعتیں لگانے کے نام پر بیچنا چاہتی ہے۔ جس علاقے میں سٹیل مل واقع ہے وہاں موجودہ سہولتوں کے حوالے سے اس زمین کی قیمت ستر لاکھ روپے فی ایکڑ کے بجائے کم از کم ڈیڑھ دو کروڑ روپے فی ایکڑ ہونی چاہیے۔ اور اس قیمت پر لوگ یہ زمین خریدنے کو تیار بھی ہیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے بعد یہ بات تو اب مزید واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان سٹیل مل کی نجکاری سپریم کورٹ کے مطابق ’جلدی میں اور غلط کی گئی تھی‘۔ بی بی سی نے اس وقت اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں یہ نشاندہی کی تھی کہ خریداری کے معاہدے کے مطابق کسی دوسرے ملک میں رجسٹرڈ غیر معروف کمپنیاں خریدار ہیں جبکہ کنسورشیم میں شامل کمپنیوں کے نام معاہدے میں خریدار کی حیثیت سے درج نہیں تھے۔ تو اب جب اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے سے یہ بات طے ہوگئی ہے کہ پاکستان سٹیل کی نجکاری اصل مالیت سے بہت کم رقم پر کی جارہی تھی تو کیا ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی جو اس مشتبہ سودے میں پوری طرح ملوث تھے؟ اصولاً تو متعقلہ وزیر کے خلاف یہ کام سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن اگر اس وقت نہیں ہوا تو وزیر اعظم کے زیر صدارت رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے بعد تو ہوہی جانا چاہیے۔ مگر کیا ایسا ہوگا۔ شاید نہیں۔ | اسی بارے میں ’سٹیل ملز املاک کا تعین کرائیں‘21 June, 2006 | پاکستان ہم کیس کریں گے: سٹیل مِلز مزدور25 June, 2006 | پاکستان سٹیل ملز کیس: اپوزیشن کا ہنگامہ10 August, 2006 | پاکستان سٹیل ملز: قومی اسمبلی کو تسلی17 August, 2006 | پاکستان ’تینتیس برس ہو گئے معاوضہ نہیں ملا‘19 August, 2006 | پاکستان ’عدالت فیصلے پرنظر ثانی کرے‘08 September, 2006 | پاکستان لیز پر سٹیل ملز کی اراضی دستیاب01 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||