BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹیل ملز کیس: اپوزیشن کا ہنگامہ

ہنگامے کے بعد سپیکر نے اجلاس کی کارروائی جمعہ تک ملتوی کردی
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز متحدہ حزب مخالف نے سٹیل ملز کی نجکاری میں قانون کی ’سنگین خلاف ورزیوں اور بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں‘ کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر بحث کی اجازت نہ ملنے پرسخت ہنگامہ برپا کردیا۔

مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں حزب اختلاف کے کئی اراکین اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے سامنے آگئے اور ان کا گھیراؤ کیے رکھا۔ سپیکر اجلاس کی کارروائی جاری رکھنے سے قاصر ہوگئے اور حزب اختلاف سے گزارش کی کہ وہ ان کے چیمبر میں آئیں اور معاملات طے کریں۔

سپیکر نے آدھے گھنٹے کے لیئے اجلاس کی کارروائی معطل کی لیکن حزب محالف کے نمائندے ان کے پاس نہیں گئے اور نیوز کانفرنس کی جس میں انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے بدعنوانی کا بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے جس میں بظاہر وزیراعظم شوکت عزیز براہ راست ملوث ہیں اور انہیں اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہونا چاہیے۔

مخدوم امین فہیم نے کہا کہ سٹیل ملز کی نجکاری میں ایک فریق کو فائدہ دینے کے لیئے حکومت نے قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیریں ہیں۔

نجکاری کمیشن کے سابق چئرمین نوید قمر نے کہا کہ وزیراعظم کابینہ کمیٹی کے خود چئرمین ہیں جس نے سٹیل ملز کی غیر قانونی نجکاری کی منظوری دی لہٰذا ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیے۔

مخدم امین فہیم نے کہا ہے کہ سٹیل ملز کی نجکاری کیس میں حکومت نے آئین کی دھجیاں بکھیریں ہیں

نجکاری کمیشن کے ایک اور سابق چیئرمین خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی گئی اور اٹک قلعہ میں رکھا گیا لیکن اتنی بڑی بدعنوانی فوج کو کیوں نظر آرہی؟ حافظ حسین احمد اپنے روایتی انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شوکت عزیز تو بڑے چھپے رستم نکلے!

قبل ازیں متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ سپریم کورٹ نے سٹیل ملز کی نجکاری میں بدعنوانیوں کی نشاندہی کے متعلق اہم نکات اٹھائے ہیں لہٰذا اس پر ایوان میں بحث کرائی جائے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ انہیں عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے لیے دو روز کی مہلت دی جائے۔ جس پر حزب مخالف کے کئی اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر ڈیسک بجاتے رہے۔

انہوں نے پرزور انداز میں ’گو مشرف گو‘ اور’ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران ایوان میں شدید شور مچ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اراکین سپیکر کے روسٹرم کے سامنے آ کر نعرے لگانے لگے۔

سپیکر نے بعد میں اجلاس کی کارروائی جمعہ کی صبح تک کے لیئے ملتوی کردی اور حزب مخالف سے کہا کہ وہ ان کے چیمبر میں ان سے مل کر طے کرلیں کہ کارروائی کیسے چلانی ہے تاکہ تعطل پیدا نہ ہو۔

اسی بارے میں
سنیٹ سے اپوزیشن کا واک آؤٹ
23 December, 2005 | پاکستان
اپوزیشن کا وفد روک لیا گیا
23 January, 2006 | پاکستان
پاکستان کی اصل اپوزیشن
25 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد